نئی دہلی، 21/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) مانسون اجلاس کے پہلے ہی دن دونوں ایوان کی کارروائی کسی کام کاج کے بغیر ملتوی ہوگئی۔ اپوزیشن نے جنتر منتر پر طلبہ پر لاٹھی چارج کا معاملہ پوری شدت سے اٹھایا اور شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس پر برہمی کا اظہار کیا۔ اپوزیشن نے کہا کہ حکومت طلبہ کو مارنے، انہیں دبانے اور ان کی آواز کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کھرگے نے انتہائی غصہ کے عالم میں حکومت کو للکارتے ہوئے کہا کہ اگر ایک امتحان بھی ٹھیک سے منعقد نہیں کرسکتے تو پھر حکمراں طبقہ کو اقتدار سے ہٹ جانا چاہئے۔
اس سے قبل جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، اپوزیشن نے نیٹ پیپر لیک، جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج اور رام مندر میں عطیات کی چوری کے معاملہ پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی۔ اپوزیشن کے سخت احتجاج کی وجہ سے راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں کو کئی بار ملتوی کرنا پڑا۔
اپوزیشن کے اراکین نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چاہِ ایوان تک آگئے۔ اپوزیشن اتحاد انڈیا کی میٹنگ میں صبح میں ہی نیٹ پیپر لیک، جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج اور رام مندر میں عطیات کی چوری پر حکومت کو گھیرنے کی حکمت عملی طے ہوگئی تھی۔
لوک سبھا میں اپوزیشن کے ممبران پوسٹروں کے ساتھ چاہِ ایوان میں پہنچ کر حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ جس وقت اپوزیشن کے ممبران نعرے لگا رہے تھے، دھرمیندر پردھان بھی ایوان میں موجود تھے۔
راجیہ سبھا میں ملکارجن کھرگے نے کہا کہ حکومت احتجاج کرنے والے طلبہ کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پرینکا گاندھی نے لوک سبھا میں پیپر لیکس سمیت ملک کی ناقص تعلیمی پالیسی پر بحث کا مطالبہ کیا۔