نئی دہلی ، 21/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )کانگریس نے ایک بار پھر ملک میں بڑھتی بے روزگاری پر مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں، جبکہ مودی حکومت اس سنگین مسئلے سے توجہ ہٹانے میں لگی ہوئی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک میڈیا رپورٹ شیئر کی، جس میں ’مرسر-میٹل‘ کے ’انڈیاز گریجویٹ اسکل انڈیکس 2025‘ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ملک میں محض 42.6 فیصد گریجویٹس ہی ملازمت کے قابل ہیں، جبکہ 57.4 فیصد کے پاس ضروری مہارتیں نہیں ہیں، جس کے باعث انہیں روزگار نہیں مل پا رہا۔ جے رام رمیش نے لکھا کہ ’’ملک کے نوجوان بے روزگاری سے شدید مایوس ہو چکے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جا رہے ہیں، مگر مودی حکومت نوکریاں پیدا کرنے کے بجائے محض عوام کی توجہ اصل مسائل سے بھٹکانے میں مصروف ہے۔‘‘
جے رام رمیش نے کہا کہ رپورٹ کے خوفناک اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں 57.4 فیصد گریجویٹ بے روزگار ہیں۔ کیونکہ ڈگری اور ہنر میں فرق مانتے ہوئے پرائیویٹ کمپنیاں اور صنعتیں انہیں روزگار کے لیے اہل نہیں مان رہیں۔ مودی حکومت کی مکمل توجہ اپنے کچھ چنندہ دوستوں کو فائدہ پہنچانے پر ہے، جس وجہ سے ہندوستان میں نصف سے زیادہ نوجوان نوکری حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ ’’نوجوان ملک کا مستقبل ہے۔ لیکن اگر وہی بے روزگار رہیں گے تو ترقی کیسا؟‘‘ ساتھ ہی جے رام رمیش نے حکومت سے سوال پوچھا کہ ’’حکومت جواب دے کہ نظام تعلیم کو صنعتوں کی ضرورتوں کے مطابق کیوں نہیں بدلا گیا؟ مہارت کی ترقی (اسکل ڈیولپمنٹ) اور پیشہ ورانہ تعلیم (ووکیشنل ٹریننگ) کو مین اسٹریم میں کب لایا جائے گا؟ ڈگری ہولڈرز نوجوانوں کو روزگار فراہم کرانے کے لیے حکومت کی کیا حکمت عملی ہے؟‘‘
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی کانگریس معیشت کو سنبھالنے کے طریقے اور بڑھتی بے روزگاری، مہنگائی کے حوالے سے حکومت پر حملہ کرتی رہی ہے۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا تھا کہ مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مسلسل بڑھتی بے روزگاری اور مہنگائی نے نچلے اور متوسط طبقے کی فیملیوں کے لیے زندگی کو بہت مشکل کر دیا ہے۔ ملک کو اب ایسے بجٹ کی ضرورت ہے جو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے راحت دے۔ گزشتہ 10 سالوں میں مہنگائی نے عام لوگوں کی جیبیں خالی کر دی ہیں۔