بنگلورو، 14؍اکتوبر (ایس او نیوز / ایجنسی)کرناٹک کے وزیر برائے دیہی ترقیات و پنچایت راجپریانک کھرگےنے انکشاف کیا ہے کہ آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر تنقید کے بعد انہیں لگاتار جان سے مارنے کی دھمکیاں اور گالی گلوچ پر مبنی فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔ وزیر کے مطابق، ان کے اہلِ خانہ کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہےصرف اس وجہ سے کہ انہوں نے سرکاری اسکولوں، کالجوں اور عوامی اداروں میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر سوال اٹھایا اور ان پر روک لگانے کی بات کی۔
پریانک کھرگے نے ایک سخت لہجے کے بیان میں کہا: "میں نہ حیران ہوں، نہ خوف زدہ۔ جب آر ایس ایس نے مہاتما گاندھی اور بابا صاحب امبیڈکر جیسے عظیم رہنماؤں کو نہیں بخشا، تو مجھے کیوں چھوڑے گی؟ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ دھمکیاں اور ذاتی حملے مجھے خاموش کر دیں گے، تو وہ غلط فہمی میں ہیں۔ یہ تو ابھی آغاز ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بدھ، بسونا اور بابا صاحب امبیڈکر کے اصولوں پر مبنی ایسا معاشرہ قائم کیا جائے جو مساوات، عقل اور ہمدردی کی بنیاد پر کھڑا ہو۔ کھرگے کے مطابق، ملک کو اس خطرناک "وائرس" سے نجات دلانا ضروری ہے جو نفرت اور تقسیم کو فروغ دے رہا ہے۔
پریانک کھرگے کے اس دو ٹوک مؤقف اور بیباک بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں نے ان کے بیان کی بھرپور تائید کی ہے ۔