لکھنؤ ، 10/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )اتر پردیش کے ملکی پور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں بی جے پی نے سماج وادی پارٹی کے امیدوار کو بھاری ووٹوں کے فرق سے شکست دے کر کامیابی حاصل کر لی۔ بی جے پی کے چندر بھانو پاسوان نے سماج وادی پارٹی کے اجیت پرساد کو ہرایا۔ انتخابی نتائج کے بعد سماج وادی پارٹی کی شکست پر پارٹی کے سینئر رہنما اور فیض آباد سے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے بی جے پی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹنگ کے دوران بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں، جس کے باعث انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔
سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے کہا کہ اگر ملکی پور میں آزادانہ طور ووٹنگ ہوتی تو یہاں تاریخ رقم ہو جاتی۔ بی جے پی کے مینڈیٹ کو چشمے سے دیکھنا پڑتا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے امیدوار اجیت پرساد لاکھوں ووٹوں کی فرق سے جیت درج کرتے۔ لیکن ملکی پور اسمبلی حلقہ پر ہوئے ضمنی انتخاب میں ووٹوں کی جو چوری ہوئی ہے وہ جمہوریت کا قتل ہے۔ اس کے بعد بھی الیکشن کمیشن بے بس نظر آیا۔ میں نے اپنے 50 سالہ سیاسی زندگی میں ایسا پہلی بار دیکھا ہے۔
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی ملکی پور ضمنی انتخاب میں پارٹی امیدوار کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا۔ پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’’پی ڈی اے کی بڑھتی ہوئی طاقت کا سامنا بی جے پی ووٹ کی بنیاد پر نہیں کر سکتی ہے اس لیے وہ انتخابی مشنری کا غلط استعمال کر کے جیتنے کی کوشش کرتی ہے۔‘‘ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ’’اس طرح کے انتخابی دھاندلی کرنے کے لیے جس سطح پر افسران کی ہیرا پھیری کرنی ہوتی ہے وہ 1 حلقہ اسمبلی میں تو ممکن ہو سکتی ہے لیکن 403 اسمبلی سیٹوں میں یہ ’چار سو بیسی‘ نہیں چلے گی۔ اس بات سے بی جے پی والے بھی بخوبی واقف ہیں اس لیے بھاجپائیوں نے ملکی پور کا ضمنی انتخاب ملتوی کیا تھا۔ پی ڈی اے مطلب 90 فیصد عوام نے خود اپنی آنکھوں سے یہ دھاندلی دیکھی ہے۔‘‘