بنگلورو ، 24/ فروری (ایس او نیوز /ایجنسی) نائب وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے آخری دن قریب آ چکے ہیں، اسی لیے وہ مہاتما گاندھی کے نام کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح چراغ بجھنے سے پہلے تیز جلتا ہے، اسی طرح بی جے پی بھی اپنے انجام سے قبل بے چین نظر آ رہی ہے۔وہ چکبالاپور میں منعقدہ "منریگا بچاؤ سنگرام" احتجاجی جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔
شیوکمار نے کہا کہ ملک کو بچانے کے لیے آج یہ تحریک شروع کی گئی ہے۔ کانگریس کی طاقت ہی ملک کی طاقت ہے اور کانگریس کی تاریخ ہی ملک کی تاریخ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بیس برس قبل کانگریس حکومت نے مہاتما گاندھی کے نام پر غریبوں کے لیے روزگار کی ضمانت کی ایک انقلابی اسکیم متعارف کرائی تھی، جس نے دیہی علاقوں میں معاشی استحکام پیدا کیا۔
نائب وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت پنچایتوں کو اپنے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا اختیار حاصل تھا۔ ریاست کی 5900 پنچایتوں کو کروڑوں روپے فراہم کر کے مستقل اثاثے بنائے گئے اور لاکھوں دیہی مزدوروں کو روزگار ملا۔ انہوں نے زور دیا کہ منریگا کو بچانا دراصل گاؤں، مزدوروں، پنچایتوں اور مہاتما گاندھی کے نام کا تحفظ ہے۔
شیوکمار نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر گرام پنچایت دفتر کو مہاتما گاندھی کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ روزگار ضمانت اسکیم صرف کانگریس کا نہیں بلکہ ملک کے غریبوں اور مزدوروں کا پروگرام ہے، جس سے دیہی عوام کو حوصلہ اور خود اعتمادی ملی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ روزگار کے حق اور دیہی خود اختیاری کو دوبارہ مضبوط کیا جائے۔
مرکزی حکومت کی نئی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ قانون غریبوں کے لیے ’’موت کا پروانہ‘‘ ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق نئی اسکیم میں ریاستی حکومت کو 40 فیصد حصہ ادا کرنا ہوگا، جس سے کئی ریاستوں میں اس کا نفاذ مشکل ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ غریبوں کے تحفظ کے لیے جدوجہد ناگزیر ہے اور اس اسکیم کو ختم نہیں ہونے دیا جائے گا۔شیوکمار نے کہا کہ ریاستی حکومت کی ضمانتی اسکیموں کو وزیرِ اعظم نریندر مودی اور بی جے پی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، مگر یہ اسکیمیں عوامی فلاح کے لیے ہیں اور انہیں بند نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ غریب خواتین کو ماہانہ امداد، مفت بجلی، مفت بس سفر اور اضافی راشن جیسی سہولتیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں ووٹ کے حق کی طرح روزگار کا حق بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی نے اس حق کو سلب کرنے کی کوشش کی تو کانگریس بھرپور جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ منریگا کو ختم نہیں ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی کسانوں اور مزدوروں کا روزگار چھیننے دیا جائے گا۔