ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / دھارواڑ میں روزگار کے مطالبے پر طلبہ کا زبردست احتجاج؛ کئی گھنٹوں تک شہر کی زندگی مفلوج

دھارواڑ میں روزگار کے مطالبے پر طلبہ کا زبردست احتجاج؛ کئی گھنٹوں تک شہر کی زندگی مفلوج

Fri, 26 Sep 2025 20:12:12    S O News
دھارواڑ میں روزگار کے مطالبے پر طلبہ کا زبردست احتجاج؛ کئی گھنٹوں تک شہر کی زندگی مفلوج

دھارواڑ، 26 ستمبر (ایس او نیوز): روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور مختلف محکموں میں خالی اسامیوں کو پُر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کرناٹک کےدھارواڑ میں جمرات کو آل کرناٹکا اسٹیٹ اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی قیادت میں ہزاروں امیدواروں نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا، جس کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاجی مظاہرہ اسوسی ایشن کے ریاستی صدر کانتھ کمار کی قیادت میں جوبلی سرکل پر منعقد ہوا، جس میں زیادہ تر امیدوار دھارواڑ کے مختلف کوچنگ سینٹروں سے وابستہ تھے۔ مظاہرین سری نگر سے مارچ کرتے ہوئے کالج روڈ کے راستے جوبلی سرکل پہنچے اور کئی گھنٹوں تک دھرنا دیا۔

مظاہرین نے ریاستی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور الزام لگایا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں اور لاپرواہی کی وجہ سے لاکھوں طلبہ اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے ادارے گزشتہ کئی برسوں سے شدید مشکلات میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھرتی میں تاخیر کے باعث ہزاروں امیدوار عمر کی مقررہ حد سے تجاوز کرچکے ہیں، جس سے ان کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

مقررین نے الزام لگایا کہ گزشتہ کئی برسوں سے مختلف محکموں میں تقرریاں نہیں کی گئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ 4 تا 5 برسوں سے پولیس کانسٹیبل اور پی ایس آئی (سب انسپکٹر) کی بھرتی کا عمل رُکا ہوا ہے، جبکہ 7 تا 8 برسوں سے ایف ڈی اے (فرسٹ ڈویژن اسسٹنٹ) اور ایس ڈی اے (سیکنڈ ڈویژن اسسٹنٹ) کی تقرریاں بھی نہیں کی گئیں۔ اسی طرح کئی برسوں سے اساتذہ کی بھرتی بھی نہیں ہوئی ہے۔

احتجاجیوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کم از کم پانچ سال کی عمر کی رعایت فراہم کرے اور فوری طور پر تمام محکموں میں بھرتی کا عمل شروع کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ کے اے ایس (KAS) کی حالیہ نوٹیفکیشن میں کنڑا زبان کے ترجمے میں سنگین غلطیاں پائی گئی ہیں، لہٰذا حکومت فوری طور پر اس نوٹیفکیشن کو منسوخ کرے اور دوبارہ درست شکل میں جاری کرے۔

پولیس نے مظاہرین کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے سخت حفاظتی انتظامات کئے اور ٹریفک پولیس نے گاڑیوں کو مختلف راستوں پر موڑ دیا، مگر شہر بھر میں ٹریفک بری طرح متاثر ہوا اور عوامی بسوں کی آمدورفت بھی رُک گئی۔ تاہم مظاہرین نے ایمبولینس کو راستہ دیا۔

اس دوران پولیس کمشنر این۔ ششی کمار نے مظاہرین کو سمجھانے اور انہیں ڈپٹی کمشنر کے دفتر جانے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن احتجاجی اپنے مطالبات پر قائم رہے۔ بعد ازاں وہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچے اور اپنے مطالبات پر مشتمل میمورنڈم پیش کیا۔


Share: