منگلورو 12/ستمبر (ایس او نیوز): منگلورو بار ایسوسی ایشن نے مرکزی جیل میں نصب موبائل سگنل جیمَر سے پیدا ہونے والے مواصلاتی مسائل کے حل کے لیے حکومت کو 14 ستمبر تک کی مہلت دی ہے۔ مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں وکلا نے 18 ستمبر کو منگلورو میں ہونے والی کرناٹک کابینہ کی میٹنگ کے دوران احتجاج کرنے کی دھمکی دی ہے۔
بار ایسوسی ایشن کے صدر جگدیش کے. شینوا نے کہا کہ گزشتہ تقریباً دو برس سے جیل کے جیمَر کی وجہ سے اطراف کے علاقے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس متاثر ہو رہی ہے، جس سے ضلعی عدالت، تعلیمی اداروں، ہوٹلوں اور تجارتی اداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وکلا کے مطابق کمزور کنیکٹیویٹی سے وکلا، مقدمات کے فریقین اور عدالتی عملے کے درمیان ضروری رابطہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔
یہ معاملہ پہلے ہی کرناٹک ہائی کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ مواصلات کی وزارت کی تکنیکی جانچ میں بتایا گیا تھا کہ جیمَر کا اثر جیل کی حدود سے باہر بھی پہنچ رہا ہے اور تقریباً 2.5 کلومیٹر تک سگنل میں خلل ریکارڈ کیا گیا۔ عدالت نے جیمَر کی تکنیکی ترتیبات کا دوبارہ جائزہ لے کر اس کے اثرات کو جیل کی حدود تک محدود کرنے کی ہدایت دی تھی۔
بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حالیہ تلاشی کے دوران جیل سے تقریباً 10 موبائل فون برآمد ہونا جیل کے اندر موبائل فون کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے داخلی حفاظتی انتظامات مزید مضبوط کرنے کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔
وکلا کا کہنا ہے کہ جیل کی سکیورٹی اہم ہے، لیکن ایسا تکنیکی نظام ہونا چاہیے جو جیل سے باہر عدالت، تعلیمی اداروں، کاروباری اداروں اور عام شہریوں کی موبائل سہولت متاثر نہ کرے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق اگر14 ستمبر تک مسئلہ حل نہ ہوا تو 18 ستمبر کو کابینہ اجلاس کے موقع پر احتجاج کیا جائے گا۔