ممبئی ، 4/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی)مہاراشٹر میں جاری ایس آئی آر مہم کے درمیان، ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ فہرست سے ووٹر کا نام ہٹانے کا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے متعلقہ ووٹروں کی فہرست سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹس (بی ایل اے)کو دینی ہوگی۔ ووٹروں کو ضروری دستاویزات کی فراہمی میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے تعاون لینے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
واضح رہےکہ ایس آئی آر کے تحت ان وو ٹروں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں جن کے نام سابقہ ووٹر لسٹ سے میپ نہیں ہیں یا جن کی تفصیلات میں منطقی تضاد یعنی فرق پایاگیا ہے۔ تاہم، کسی بھی ووٹر کا نام انتخابی فہرست سے صرف ضروری دستاویزات یا ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر نہیں نکالا جائے گا۔ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفترنے بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل او)کو ہدایت دی ہے کہ وہ ووٹر کا نام حذف کرنے سے پہلے اس کی تفصیل بی ایل ایز کودے۔ مزید بر آں، ضروری دستاویزات فراہم کرنے میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مدد لی جانی چاہیے۔
ووٹروں کیلئے دستاویز جمع کرانے کیلئے ۳، ۴، ۱۰ اور ۱۱؍ اکتوبرکو خصوصی کیمپ لگائے جائیں گے تاکہ ووٹرز کو دستاویزات جمع کرانے میں سہولت ہو۔ ان کیمپوں میں ووٹر ڈاکیومنٹ پروسیسنگ کے عمل کو مکمل کیاجائے گا۔ الیکشن آفس نے واضح کیا ہے کہ ووٹروں کو دستاویزات جمع کرانے کیلئے کافی وقت دینا اور اگر ضروری ہو تو سماعت کا موقع فراہم کرنا لازمی ہے۔ اگر سماعت کی ضرورت ہو تو جب بھی ممکن ہو آن لائن سماعتوں کو ترجیح دی جائے گی۔
رہنما خطوط کے مطابق، نوٹس وصول کرنے والے رائے دہندگان کی جب سماعت ہوگی تو متعلقہ ووٹر کے موجود نہ ہونے کی صورت میں اس کے متعلقین میں سے کوئی بالغ فرد بھی سماعت میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس کے لیے متعلقہ ممبر کی اجازت درکار ہے۔ مزید برآں بی ایل اوز ان ووٹروں سےفون، واٹس ایپ اور یا دیگر ذرائع سے بھی رابطہ کرسکیں گےجنہیں نوٹس موصول ہوتا ہے۔ اگر ضروری ہو تو بی ایل او کاغذات حاصل کرنے کیلئے ووٹر کے گھر بھی جا سکتے ہیں۔
اس انتظام کا مقصد ووٹروں کو کاغذات جمع کرانے کیلئے بار بار الیکشن آفس جانے کی پریشا نیوں سے بچانا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی ووٹر کو اس کا نام حذف کرنے سے پہلے مناسب موقع دینے اور پورے باضابطہ عمل سے گزرنے کو یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ ایس آئی آر کیلئے دوالیکشن کمشنروں کے اعتراضات کو نظر انداز کرنے سے متعلق انڈین ایکسپریس کی رپورٹ سامنے کے بعد مہاراشٹر کےچیف الیکٹورل آفیسربھی محکمہ میں اصلاحی اقدامات کو ترجیح دے رہے ہیں۔