مینگلور، 7 فروری (رحمان ہلے انگڈی/ایس او نیوز): ملکی سے سورتکل کے درمیان قومی شاہراہ پر موجود یوٹرنز مسافروں اور گاڑی سواروں کے لیے خطرناک بلیک اسپاٹس میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ صرف گزشتہ چھ دنوں کے دوران ہلے انگڈی ے سورتکل تک کے حصے میں سات سنگین سڑک حادثات پیش آچکے ہیں، جن میں کئی افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور مختلف اسپتالوں کے آئی سی یو وارڈز میں زیر علاج ہیں۔
قومی شاہراہ سے گزرنے والے پڈوپنمبور، ہلے انگڈی بازار، پاونجے جنکشن، مُکّا شری نواس اسپتال جنکشن، تڈنبیل سپریم ہال کے قریب، سورتکل ماری گُوڈی جنکشن اور سورتکل سورج ہوٹل کے نزدیک واقع جنکشنز کو مسلسل حادثات کی وجہ سے بلیک اسپاٹس کے طور پر شناخت کیا جا رہا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں حادثات کی بنیادی وجہ قومی شاہراہ اتھارٹی کی جانب سے بنائے گئے غیر سائنسی ڈیوائیڈرز اور یوٹرنز ہیں۔ ان ڈیوائیڈرز کی وجہ سے کئی مقامات پر گاڑیاں مخالف سمت میں چلنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ شاہراہ پر حادثاتی علاقوں کے نام پر لگائے گئے بیریکیڈز بھی ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، جبکہ متعدد یوٹرنز کے قریب مناسب رہنمائی کے لیے سائن بورڈز نصب نہ ہونے سے بھی حادثات بڑھ رہے ہیں۔
پولیس محکمہ نے قومی شاہراہ پر موجود غیر سائنسی اور خطرناک یوٹرنز کو بند کرنے کے تعلق سے قومی شاہراہ اتھارٹی کو مکتوب ارسال کرتے ہوئے فوری کارروائی کی اپیل کی ہے۔ اسی تناظر میں پولیس نے اطلاع دی ہے کہ تڈ نبیل علاقے میں واقع یوٹرن کو جلد ہی بند کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ انہی یوٹرنز کے باعث ماضی میں بھی کئی حادثات پیش آچکے ہیں، جن میں متعدد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا شدید زخمی ہوئے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ پولیس محکمہ قومی شاہراہ اتھارٹی کے ساتھ سنجیدہ مشاورت کر کے خطرناک یوٹرنز کو مستقل طور پر بند کرے تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔