ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مہا کمبھ میں دریا میں آلودگی میں اضافہ، بیکٹیریا کی سطح میں اضافہ: پولیوشن بورڈ

مہا کمبھ میں دریا میں آلودگی میں اضافہ، بیکٹیریا کی سطح میں اضافہ: پولیوشن بورڈ

Tue, 18 Feb 2025 18:43:24    S O News

 پریاگ راج، 18/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کو سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کی ایک تازہ رپورٹ کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے کہ پریاگ راج میں مہا کمبھ کے دوران مختلف مقامات پر نہانے کے لیے پانی کے معیار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سی پی سی بی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ گندے پانی میں موجود فیکل کولیفارم بیکٹیریا کی مقدار ۲۵۰۰؍ یونٹ فی ۱۰۰؍ ملی لیٹر کی حد سے تجاوز کر گئی ہے، جو پانی کی آلودگی کی ایک سنگین علامت ہے۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب این جی ٹی کے بنچ نے گنگا اور جمنا ندیوں میں آلودگی کے اثرات کو روکنے کے لیے سماعت کی۔

بنچ نے کہا کہ سی پی سی بی نے۳؍ فروری کو ایک رپورٹ داخل کی تھی جس میں کچھ غیر تعمیل یا خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف مواقع پر نگرانی کرنے والے تمام مقامات پر گندے پانی ’فیکل کولیفارم‘ کے حوالے سے دریا کے پانی کا معیار نہانے کیلئے بنیادی پانی کے معیار کے مطابق نہیں تھا۔ پریاگ راج میں مہا کمبھ کے دوران بڑی تعداد میں لوگ دریا میں نہاتے ہیں جس سے گندے پانی کا ارتکاز بڑھ جاتا ہے۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ اتر پردیش آلودگی کنٹرول بورڈ (UPPCB) نے ایک جامع کارروائی کی رپورٹ داخل کرنے کے این جی ٹی کی پہلے کی ہدایت کی تعمیل نہیں کی ہے۔ این جی ٹی نے کہا کہ یو پی پی سی بی نے صرف پانی کی جانچ کی کچھ رپورٹس کے ساتھ ایک خط داخل کیا۔

بنچ نے کہاکہUPPCB کی مرکزی لیبارٹری کے انچارج کی طرف سے بھیجے گئے ۲۸؍جنوری کے خط کے ساتھ منسلک دستاویزات کے جائزے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مختلف جگہوں پر گندے پانی کی اعلی سطح پائی گئی ہے۔ این جی ٹی نے ریاست اتر پردیش کے وکیل کو رپورٹ کا جائزہ لینے اور جواب داخل کرنے کے لیے ایک دن کا وقت دیاہے۔

نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کی ہدایت کے مطابق عقیدت مندوں کو پانی کے معیار کے بارے میں مطلع کیا جانا چاہئے جس میں وہ ڈبکی لگانے جا رہے ہیں۔ تاہم، ڈاؤن ٹو ارتھ (DTE) کو معلوم ہوا ہے کہ ایسا نہیں کیا جا رہا ہے۔ دسمبر۲۰۲۴ء کے اپنے حکم میں این جی ٹی نے کہا تھا کہ مہا کمبھ کے دوران پریاگ راج میں گنگا کے پانی کی مناسب دستیابی ہونی چاہئے اور اس کا معیار پینے اور نہانے کیلئے موزوں ہونا چاہئے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس طرح کے مسائل اٹھائے گئے ہوں۔ ۲۰۱۹ء میں پریاگ راج کمبھ کے بارے میں سی پی سی بی کی رپورٹ میں واضح طور پر اشارہ کیا گیا تھا کہ نہانے کے بڑے دنوں میں بھی پانی کا معیار خراب تھا۔ ۲۰۱۹ءکے کمبھ میلے میں ۱۳۰ء۲؍ ملین لوگوں نے شرکت کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق کرسر گھاٹ پر بی او ڈی اور فیکل کالیفارم کی سطح قابل قبول حد سے زیادہ پائی گئی۔ اُن دنوں شام کے مقابلے میں صبح کے وقت ڈی او بی کی سطح نمایاں طور پر زیادہ تھی۔ مزید برآں، مہاشیو راتری اور اس کے بعد کے دنوں میں صبح اور شام دونوں وقت فیکل لیولز معیار سے تجاوز کر گئی تھی۔ 
 


Share: