بنگلورو ، 23/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کستوری رنگن رپورٹ اور کرناٹک میں پیدا ہونے والی سنگین خشک سالی کی صورتحال پر قانون ساز ایوان میں جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر جامع بحث کی ضرورت ہے، تاکہ ریاست کے مفادات کے تحفظ کے لیے مرکز کے سامنے متفقہ موقف پیش کیا جاسکے۔ نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر محصولات ڈاکٹر جی پرمیشورنے یہ بات قانون ساز کونسل میں گفتگو کے دوران کہی۔
پرمیشورانے کہا کہ کستوری رنگن رپورٹ کے ساتویں مسودے سے متعلق ریاستی حکومت کو مقررہ مدت کے اندر مرکزی حکومت کے سامنے اپنا موقف پیش کرنا ہے۔ ان کے مطابق صرف ریاستی حکومت کی جانب سے یک طرفہ رائے پیش کرنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ ایوان میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے ارکان اس معاملے پر کھل کر بحث کریں اور ریاست کے مفاد میں ایک متفقہ موقف طے کرکے مرکز کے سامنے رکھا جائے۔ اسی مقصد کے تحت کستوری رنگن رپورٹ کو ایوان میں بحث کے لیے لایا گیا ہے۔
انہوں نے ریاست کی موجودہ خشک سالی کی صورتحال کو بھی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ بارش کی کمی صرف چند تعلقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ریاست کے بیشتر حصوں میں اس کے اثرات دیکھنے میں آرہے ہیں۔ بارش کی کمی نے زرعی سرگرمیوں اور کسانوں کی معیشت کو متاثر کیا ہے اور حکومت صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریاست میں معمول کے مطابق تقریباً 852 ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی، لیکن اب تک تقریباً 642 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ جون سے ستمبر کے دوران ریاست کے مختلف علاقوں میں بارش کی شدید کمی رہی، جبکہ مجموعی طور پر ریاست میں بارش کی کمی تقریباً 36 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
علاقائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جنوبی اندرونی کرناٹک میں بارش کی کمی 46 فیصد، شمالی اندرونی کرناٹک میں 44 فیصد، ملناڈ میں 38 فیصد اور ساحلی علاقوں میں 28 فیصد رہی ہے۔
ڈاکٹر جی۔ پرمیشورا نے کہا کہ بارش شروع ہونے پر کسانوں نے فصلوں کی بوائی کی، لیکن چند ہی دنوں بعد بارش رک جانے سے کئی علاقوں میں اگنے والی فصلیں خشک ہوگئیں۔ بعد میں دوبارہ بارش ہونے پر کسانوں نے دوسری مرتبہ بوائی کی، لیکن متعدد علاقوں میں ان فصلوں کو بھی نقصان پہنچا۔ نتیجتاً کئی مقامات پر فصلوں کا نقصان سنگین نوعیت اختیار کرگیا ہے اور کسان مشکلات سے دوچار ہیں۔
نائب وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ خشک سالی کا اعلان مرکزی حکومت کی جانب سے 2020 میں وضع کردہ رہنما اصولوں کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ ان معیارات کی بنیاد پر پہلے مرحلے میں ریاست کے 101 تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا تھا۔ مسلسل جائزے کے بعد مزید 23 تعلقوں کو فہرست میں شامل کیا گیا اور اب مزید 53 تعلقوں کو شامل کیا جارہا ہے۔ اس طرح خشک سالی سے متاثرہ تعلقوں کی مجموعی تعداد 177 ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ عمل 177 تعلقوں تک محدود نہیں رہے گا۔ زمینی صورتحال، بارش کی کمی، فصلوں کو پہنچنے والے نقصان اور مقررہ دیگر معیارات کی بنیاد پر مسلسل جائزہ لیا جائے گا۔ صورتحال کے مطابق آئندہ مزید تعلقوں کو بھی خشک سالی سے متاثرہ فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے اور یہ تعداد تقریباً 200 تعلقوں تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ڈاکٹر جی۔ پرمیشورا نے کہا کہ چونکہ خشک سالی کے اعلان اور امداد سے متعلق بنیادی معیارات مرکزی حکومت نے طے کیے ہیں، اس لیے ریاست کو انہی اصولوں کے دائرے میں رہ کر کارروائی کرنا پڑتی ہے۔ اگر مقررہ معیارات سے ہٹ کر ریاست کے تمام تعلقوں کو اچانک خشک سالی سے متاثرہ قرار دے دیا جائے تو مرکزی امداد حاصل کرنے کے عمل میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت مرکزی حکومت کے مقرر کردہ ضابطوں کے مطابق کارروائی کررہی ہے اور ان اصولوں کے تحت ریاست کو ملنے والی خشک سالی کی امداد مرکز کو فراہم کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت بھی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور زمینی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے کر متاثرہ کسانوں تک ضروری امداد پہنچانے کے اقدامات جاری رکھے گی۔
کستوری رنگن رپورٹ اور خشک سالی، دونوں کو ریاست کے مفاد سے متعلق اہم معاملات قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر جی۔ پرمیشورا نے حکمراں جماعت اور اپوزیشن سے اپیل کی کہ ان معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر دیکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایوان میں دونوں اہم موضوعات پر جامع بحث کے بعد ریاست کے مفادات کے تحفظ کے لیے متفقہ موقف اختیار کیا جانا چاہیے، تاکہ مرکزی حکومت کے سامنے کرناٹک کی اجتماعی رائے اور مفادات کو واضح طور پر پیش کیا جاسکے۔