بنگلورو، 7/ اگست (ایس او نیوز / ایجنسی)کرناٹک کے وزیر صحت و خاندانی بہبود دنیش گنڈو راؤ نے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کو ایک تفصیلی وضاحتی مکتوب روانہ کرتے ہوئے ریاست میں جن اوشدھی کیندروں سے متعلق حالیہ فیصلے پر وضاحت پیش کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے جن اوشدھی مراکز کو مکمل طور پر بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، بلکہ پابندی صرف سرکاری اسپتالوں کے احاطوں تک محدود ہے تاکہ مریضوں کو باہر سے ادویات خریدنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
مکتوب میں دنیش گنڈو راؤ نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی حکومت نے عوامی صحت کے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے ہدایت دی ہے کہ سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹر صرف وہی دوائیں تجویز کریں جو حکومت کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد غریب مریضوں کو مہنگی دوائیں خریدنے کے بوجھ سے بچانا اور انہیں بلا معاوضہ معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کرناٹک کے تمام سرکاری اسپتالوں کو ’’کرناٹک اسٹیٹ میڈیکل سپلائیز کارپوریشن لمیٹڈ‘‘ کے ذریعہ ضروری دوائیں باقاعدگی سے فراہم کی جا رہی ہیں۔ اگر کسی دوا کی وقتی کمی ہو تو اسپتالوں کو خصوصی فنڈز دستیاب ہیں، جن کی مدد سے وہ مقامی سطح پر مطلوبہ دوائیں خرید سکتے ہیں۔
وزیر صحت نے اعداد و شمار فراہم کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال ریاست بھر میں 1417 جن اوشدھی کیندر کام کر رہے ہیں، جن میں سے صرف 184 مراکز سرکاری اسپتالوں کے احاطوں میں قائم ہیں، جبکہ باقی تمام مراکز اسپتالوں سے باہر قائم ہیں اور معمول کے مطابق اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان مراکز پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جن اوشدھی مراکز کو ادویات فراہم کرنے والی ایجنسیاں وہی دوائیں رعایتی نرخ پر ریاستی محکمہ صحت کو بھی مہیا کریں، تو سرکاری اسپتالوں میں مفت دواؤں کی اسکیم کو مزید تقویت حاصل ہوگی، اور بڑی تعداد میں مریضوں کو فائدہ پہنچے گا۔
مکتوب کے اختتام پر دنیش گنڈو راؤ نے مرکزی وزیر کو یقین دلایا کہ حکومت کرناٹک ہر شہری کو معیاری، سستا اور آسان علاج فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، اور اس مقصد کے لیے ریاست میں طبی خدمات اور ادویات کی فراہمی کے نظام کو مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مشترکہ طور پر ملک کے عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔