بنگلورو، 5 جون (ایس او نیوز) : کرناٹک پبلک سروس کمیشن (KPSC) کی جانب سے جاری کردہ 384 گزٹیڈ پروبیشنری عہدوں کی بھرتی سے متعلق اعلامیہ کو کرناٹک ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل (KAT) نے منسوخ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ 28 مئی کو جسٹس آر بی بودیہال (چیئرمین) اور ایڈمنسٹریٹو ممبر راگھویندرا اورادکر پر مشتمل بینچ نے سنایا۔
یہ فیصلہ چن پٹن کے رہائشی اور ایم ٹیک ڈگری یافتہ امیدوار بی این مدھو کی جانب سے دائر کی گئی عرضداشت پر سنایا گیا، جس میں بھرتی کے اعلامیہ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عرضداشت میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بھرتی میں ریزرویشن کی حد مقررہ قانونی دائرے سے تجاوز کرتی ہے۔
کے پی ایس سی نے یہ بھرتی اعلامیہ ریاستی حکومت کے اُس حکم کی بنیاد پر جاری کیا تھا، جس کے تحت سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کا تناسب 50 فیصد سے بڑھا کر 56 فیصد کر دیا گیا تھا۔ ٹریبونل نے نہ صرف اس بھرتی اعلامیہ کو منسوخ کیا، بلکہ ریاستی حکومت کی جانب سے 12 دسمبر 2022 کو جاری کردہ ریزرویشن میں اضافے کے سرکاری حکم کو بھی کالعدم قرار دیا۔
فیصلے میں عدالت نے کہا کہ نئی بھرتی کے لیے کے پی ایس سی ایک خودمختار ادارہ ہے اور وہ قانون کے دائرے میں رہ کر نیا اعلامیہ جاری کر سکتی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ سابقہ بی جے پی حکومت کی طرف سے 23 اکتوبر 2022 کو جاری کردہ حکم نامے کے ذریعے درج فہرست ذاتوں (SC) اور درج فہرست قبائل (ST) کے لیے ریزرویشن کو 18 فیصد سے بڑھا کر 24 فیصد کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں 28 دسمبر 2022 کو اسی کی بنیاد پر بھرتی کا اعلامیہ جاری کیا گیا، تاہم یہ سارا عمل قانون ساز اسمبلی کی منظوری کے بغیر عمل میں لایا گیا، جو کہ آئینی طور پر درست نہیں تھا۔ اس بنیاد پر 2023 کا ریزرویشن قاعدہ بھی غیر مؤثر قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ بسوراج بومئی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت نے ریاست میں درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے لیے ریزرویشن میں اضافہ کیا تھا اور اسی بنیاد پر 384 پروبیشنری عہدوں کی بھرتی کے لیے KPSC نے اعلامیہ جاری کیا تھا، جسے اب عدالت نے منسوخ قرار دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ریاستی حکومت اور KPSC کو نئی بھرتی کے لیے قانونی تقاضوں کے مطابق نیا اعلامیہ جاری کرنا ہوگا۔