ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک اردو اکادمی کے زیر اہتمام بسواکلیان میں ادب و سخن کی دلنشیں محفل

کرناٹک اردو اکادمی کے زیر اہتمام بسواکلیان میں ادب و سخن کی دلنشیں محفل

Mon, 16 Feb 2026 20:51:17    S O News
کرناٹک اردو اکادمی کے زیر اہتمام بسواکلیان میں ادب و سخن کی دلنشیں محفل

    بسواکلیان۔16/فروری (موصولہ/ایس او نیوز)  محکمہ اقلیتی بہبود حکومتِ کرناٹک کے زیرِ اہتمام کرناٹک اردو اکادمی کی جانب سے ضلع بیدر کے  تاریخی شہر بسواکلیان میں ایک یادگار اور شاندار محفلِ مشاعرہ کا انعقاد شیر سوار بیت المال ٹرسٹ کے وسیع و دیدہ زیب فنکشن ہال میں عمل میں آیا۔ یہ ادبی نشست نہ صرف شعری ذوق رکھنے والوں کے لیے ایک خوشگوار موقع ثابت ہوئی بلکہ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی، جس میں ریاست کرناٹک اور پڑوسی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز اور کہنہ مشق شعرا نے شرکت کرکے محفل کو چار چاند لگا دیے۔

محفلِ مشاعرہ کے کنوینر محمد امین الدین (امین نواز) کی خصوصی کاوشوں سے اس ادبی تقریب میں مختلف شہروں کے نامور شعرا مدعو کیے گئے۔ حیدرآباد سے سردار سلیم اور سید وحید پاشاہ قادری، ظہیرآباد سے شکیل ظہیرآبادی، بسواکلیان سے مسرور نظامی، محمد مقیم باگ اور ڈاکٹر قاسم کلیانوی، بیدر سے میر بیدری (محمد یوسف رحیم) اور محمد حامد سلیم، گلبرگہ سے سید مختار احمد دکنی اور صادق کرمانی، یادگیر سے ڈاکٹر رفیق سوداگر اور خادم اظہر، بلگام سے سید احمد بادشاہ ساگر اور محمد شریف احمد شریف جبکہ بھٹکل سے فرزانہ فرح نے اپنا منتخب کلام پیش کرکے سامعین سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔

مشاعرہ کی صدارت استاد و ممتاز شاعر جناب سردار سلیم نے کی۔ شعرا کی پُراثر آوازوں، فکر انگیز اشعار اور دلنشیں اندازِ بیان نے محفل کو دیر تک مسحور کیے رکھا، جہاں حاضرین ہر عمدہ شعر پر والہانہ انداز میں داد دیتے نظر آئے۔

مشاعرہ سے قبل ابتدائی پروگرام کا آغاز شیر سوار بیت المال کی ایک طالبہ کی جانب سے تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے محفل کو روحانیت کی فضا سے معطر کر دیا۔ بعد ازاں سہروردی معین الدین انجینئر چشتی نقشبندی (ڈائریکٹر، شیر سوار بیت المال بسواکلیان) اور سید احمد بادشاہ ساگر نے خوش الحان انداز میں نعتِ رسول ﷺ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی، جس نے حاضرین کے دلوں کو عقیدت و محبت سے لبریز کر دیا۔

ابتدائی نشست کی صدارت سہروردی معین الدین انجینئر چشتی نقشبندی نے کی جبکہ مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر محمد انیس صدیقی (رکن کرناٹک اردو اکادمی، گلبرگہ)، محمد شریف احمد شریف (رکن کرناٹک اردو اکادمی، بلگام) اور ممتاز شاعر سردار سلیم شریک رہے جبکہ صدارت سہروردی معین الدین انجینئر چشتی نقشبندی نے کی۔ابتدائی پروگرام کی نظامت جناب مسرور نظامی اور مشاعرہ کی نظامت کے فرائض محمد شریف احمد شریف نے نہایت مہارت اور شائستگی کے ساتھ انجام دیتے ہوئے ابتدائی پروگرام اور محفل مشاعرہ کو ایک مربوط اور دلکش انداز میں آگے بڑھایا، جس پر حاضرین نے ان حضرات کی نظامت کو خوب سراہا۔

استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کنوینر محمد امین الدین (امین نواز) نے صدرِ جلسہ، مہمانانِ خصوصی، شعرا کرام اور سامعین کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر معزز مہمانوں اور شراء کرام کی گلپوشی اور شال پوشی کرتے ہوئے انھیں مومنٹو پیش کیا گیا. اور اس موقع پربطور مہمانِ خصوصی  بسواکلیان کی معزز شخصیت عبدالرزاق المعروف بہ بابا چودہری کی گلپوشی و شالپوشی کرتے ہوئے ان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا گیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر مسرور نظامی کے ساتھ مل کر شیر سوار بیت المال بسواکلیان کے سیکریٹری جاوید نظامی اور دیگر ذمہ داران کی جانب سے مشاعرہ کے کامیاب انعقاد کیلئے انجام دی گئی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

اگرچہ کرناٹک اردو اکادمی کے چیئرمین مولانا مفتی محمد علی قاضی اپنی بعض مصروفیات کے باعث تقریب میں شریک نہ ہو سکے، تاہم اپنے پیغام میں انہوں نے بسواکلیان کے محبانِ اردو، شعرا اور سامعین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اکادمی ریاست بھر میں محدود وسائل کے باوجود اردو زبان کی ترقی و فروغ کے لیے مسلسل مختلف ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد کر رہی ہے، اور بسواکلیان میں اس مشاعرہ کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔تقریب کے دوران بسواکلیان کی روحانی و تاریخی اہمیت کا بھی ذکر کیا گیا۔ حضرت شیر سوارؒ کی درگاہ کو روحانیت کا ایک عظیم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ مقام صوفیانہ تعلیمات اور باہمی اخوت کی روشن مثال ہے، جبکہ بسواکلیان بسویشور کی کرم بھومی ہونے کے سبب قومی یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کی علامت بھی ہے۔

مہمانِ خصوصی ڈاکٹر محمد انیس صدیقی نے اپنے خطاب میں کرناٹک اردو اکادمی کی جانب سے ریاست بھر میں انجام دی جانے والی ادبی و تعلیمی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے ایسے پروگرام نہایت ضروری ہیں، کیونکہ یہ نئی نسل کو ادب سے جوڑنے اور شعری روایت کو زندہ رکھنے کا مؤثر ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ محفلِ مشاعرہ ادب دوستوں کے لیے ایک یادگار شام ثابت ہوئی، جہاں شعر و سخن کی خوشبو، فکری تازگی اور شعری لطافت نے سامعین کے دلوں کو مسرور کر دیا۔ شعرا کے معیاری کلام کو جس گرمجوشی سے پذیرائی ملی، اس نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا کہ بسواکلیان کی سرزمین آج بھی ادب اور تہذیب کی قدروں سے مالامال ہے اور اردو زبان کے فروغ کے لیے یہاں کے عوام کا جذبہ قابلِ ستائش ہے۔


Share: