ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / امیرِ شریعت کے انتخاب میں تعطل، امارتِ شرعیہ کرناٹک نے عبوری مجلسِ امارت قائم کر دی

امیرِ شریعت کے انتخاب میں تعطل، امارتِ شرعیہ کرناٹک نے عبوری مجلسِ امارت قائم کر دی

Sat, 17 Jan 2026 12:46:00    S O News
امیرِ شریعت کے انتخاب میں تعطل، امارتِ شرعیہ کرناٹک نے عبوری مجلسِ امارت قائم کر دی

بنگلورو ، 17/ جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)امیرِ شریعتِ کرناٹک مولانا صغیر احمد خان رشادیؒ کے وصال کے بعد پیدا ہونے والی قیادت کی صورتِ حال پر سنجیدہ غور و فکر کے نتیجے میں امارتِ شرعیہ کرناٹک نے ایک نیا انتظامی و مشاورتی ماڈل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔طویل مشاورت کے باوجود کسی ایک شخصیت پر اتفاق نہ ہو سکا، جس کے بعد اجتماعی قیادت کے اصول کے تحت مجلسِ امارت کی تشکیل عمل میں آئی۔

یہ فیصلہ دارالعلوم سبیل الرشاد، بنگلورو میں منعقدہ اہم اجلاس میں کیا گیا، جہاں مجلسِ شوریٰ کے اراکین نے ریاست کے موجودہ دینی، ملی اور سماجی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق ہوا کہ بدلتے ہوئے حالات میں شخصی قیادت کے بجائے اجتماعی رہنمائی ملت کے مفاد میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

نئی قائم کردہ مجلسِ امارت میں تین ایسے علما کو شامل کیا گیا ہے جنہیں دینی بصیرت، اعتدال اور تنظیمی فہم کے اعتبار سے ریاست میں اعتماد حاصل ہے۔ یہ مجلس امارت شرعیہ کے دستور کے مطابق امیرِ شریعت کے فرائض سرانجام دے گی اور مجلسِ شوریٰ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے فیصلے کرے گی۔ مجلسِ شوریٰ نے واضح کیا کہ اس عبوری انتظام کا مقصد امارت شرعیہ کے دینی و شرعی کاموں کو بغیر کسی تعطل کے جاری رکھنا اور ملت کو درپیش مسائل کا بروقت اور متوازن حل تلاش کرنا ہے۔

مجلسِ امارت کو ریاست بھر میں امارت کے اغراض و مقاصد کے تحت سرگرم رہنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔اجلاس کے دوران مرحوم مولانا صغیر احمد خان رشادیؒ کے انتقال پر گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی دینی، شرعی اور تنظیمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

اراکین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مرحوم کے قائم کردہ نظم و روایت کو ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور کے پیچیدہ چیلنجز کا مقابلہ صرف اتحاد، مشاورت اور اجتماعی فیصلوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور امارت شرعیہ کرناٹک اسی اصول پر آگے بڑھتی رہے گی۔


Share: