بنگلورو، 14؍اکتوبر (ایس او نیوز / ایجنسی)کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا نے اشارہ دیا ہے کہ ریاست میں سرکاری مقامات پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ریاستی چیف سکریٹری کو ہدایت دی ہے کہ تمل ناڈو حکومت کے ماڈل کا مطالعہ کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ تیار کی جائے۔
وزیراعلیٰ نے پیر کے روز باگل کوٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر برائے آئی ٹی و بی ٹی پریانک کھرگے نے انہیں ایک مکتوب کے ذریعے توجہ دلائی ہے کہ آر ایس ایس تنظیم سرکاری عمارتوں، اسکولوں اور میدانوں میں اپنی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے، جو قواعد کے خلاف ہے۔ اس پس منظر میں تمل ناڈو کی طرز پر کرناٹک میں بھی ان سرگرمیوں پر روک لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
سدارامیا نے مزید کہا کہ حکومت قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت کسی بھی تنظیم کو سرکاری املاک کو ذاتی یا نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کی صحت سے متعلق اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حالت میں بہتری آئی ہے اور وہ دو دن کے اندر اسپتال سے اپنے گھر منتقل ہو جائیں گے۔
کابینہ میں ممکنہ ردوبدل کے سوال پر سدارامیا نے وضاحت کی کہ آج ہونے والا عشائیہ محض معمول کا پروگرام ہے اور اس کا وزارتی تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی وزارتی توسیع یا ردوبدل کا فیصلہ پارٹی ہائی کمانڈ اور ارکانِ اسمبلی کے مشورے سے ہی کیا جائے گا۔
بنگلورو میں منعقدہ "بنگلورو ناڈگے" پروگرام میں ایم ایل اے منی رتنا کی غیر حاضری پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں سدارامیا نے کہا کہ اگر وہ شریک ہوتے تو اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے تھے، تاہم میں کسی بھی طرح کے ٹونہ ٹوٹکے یا جادوی عقائد پر یقین نہیں رکھتا۔
وزیراعلیٰ نے مزید اعلان کیا کہ کرشنا اپر کینال پروجیکٹ کے لیے مناسب فنڈ فراہم کیا جائے گا اور آئندہ چار سالوں میں یہ منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا۔ والمیکی برادری کو نمائندگی دینے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
آخر میں سدارامیا نے کہا کہ کسی ایم ایل اے کا استعفیٰ حکومت کے دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کرناٹک حکومت شفاف طرزِ حکمرانی پر یقین رکھتی ہے اور عوامی مفاد کے فیصلے ہی اس کی ترجیح ہیں۔