ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں خشک سالی متاثرہ کسانوں کے لیے 1,250 کروڑ روپے کی فوری امداد کا اعلان

کرناٹک میں خشک سالی متاثرہ کسانوں کے لیے 1,250 کروڑ روپے کی فوری امداد کا اعلان

Sat, 26 Sep 2026 18:17:34    S O News

بنگلورو ، 26/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک حکومت نے خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو فوری مالی مدد فراہم کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں فی کسان 2,500 روپے ان پٹ سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے تقریباً 45 سے 50 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ ریاستی خزانے پر تقریباً 1,250 کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔

نائب وزیر اعلیٰ اور محکمہ محصولات کے وزیر ڈاکٹر جی پرمیشورنے کہا کہ مرکزی حکومت سے قومی آفات سے نمٹنے کے فنڈ کے تحت امداد کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم کسانوں کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ریاستی حکومت نے فوری امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشورنے کہا کہ ریاستی حکومت کسانوں کو پہلے ہی مختلف طریقوں سے مدد فراہم کر رہی ہے۔ زرعی پمپ سیٹوں کو مفت بجلی فراہم کرنے کے لیے تقریباً 22,000 کروڑ روپے کی بجلی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 1,250 کروڑ روپے کی امداد معمولی رقم نہیں ہے اور مرکزی حکومت سے حاصل ہونے والی امداد کی بنیاد پر آئندہ مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر پرمیشورکے مطابق ریاست میں خشک سالی سے ہونے والے مجموعی نقصان کا تخمینہ 40,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔ ریاستی حکومت پہلے ہی مرکزی حکومت کو ابتدائی یادداشت پیش کرچکی ہے اور صورتحال کے جائزے کے بعد مزید یادداشتیں بھی پیش کی جائیں گی۔ مکمل نقصان کا تخمینہ تیار کرنے کے بعد قومی آفات سے نمٹنے کے فنڈ کے رہنما اصولوں کے تحت درکار امدادی رقم مرکزی حکومت کے سامنے رکھی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ امدادی اقدامات کا انحصار مرکزی حکومت سے ملنے والی امداد کی مقدار اور طریقۂ کار پر ہوگا، اس لیے فی الحال اضافی یا نظرثانی شدہ امدادی رقم کے بارے میں کوئی حتمی یقین دہانی نہیں کرائی جاسکتی۔

مرکزی حکومت نے خشک سالی کی صورتحال اور نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ٹیم روانہ کرنے کے سلسلے میں ریاستی حکومت کو خط بھیجا ہے، جس میں ایک آئی اے ایس افسر بھی شامل ہوں گے۔ ٹیم کے دورۂ کرناٹک کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔ مرکزی ٹیم کے دورے اور مقررہ رہنما اصولوں کے مطابق جائزے کے بعد مزید امداد کی مقدار کے بارے میں صورتحال واضح ہوگی۔

خشک سالی سے متعلق امداد کے معاملے پر کل جماعتی وفد دہلی لے جانے کے بارے میں ڈاکٹر پرمیشورا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور وہ اسمبلی میں اس سلسلے میں پہلے ہی وضاحت کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اجلاس منعقد کیا جائے گا اور اس کے بعد وفد کو دہلی لے جایا جائے گا۔

وفد کی جانب سے وزیر اعظم، مرکزی وزیر داخلہ اور مرکزی وزیر زراعت سے ملاقات کرکے کرناٹک کی خشک سالی کی صورتحال اور کسانوں کو درپیش مشکلات سے آگاہ کرنے کی تجویز ہے۔ ڈاکٹر پرمیشورا نے کہا کہ اگر اپوزیشن ارکان وفد میں شامل ہونے کے لیے تیار ہوں تو حکومت انہیں بھی ساتھ لے جانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم دہلی روانگی کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔

رام نگر میں معذور افراد کی جانب سے اعزازیہ میں اضافے کے مطالبے پر جاری احتجاج کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ متعلقہ محکمہ اس سلسلے میں تجویز تیار کرکے کابینہ کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہی محکمہ خزانہ کے وزیر بھی ہیں؛ ان سے مشاورت کے بعد اگر تجویز کابینہ کے سامنے آتی ہے تو وہ اس معاملے میں تعاون کریں گے۔


Share: