ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں 25؍ ستمبر کے بعد شروع ہوگا ایس آئی آر، ووٹروں کی تعداد 5.5 کروڑ تک پہنچنے کا امکان

کرناٹک میں 25؍ ستمبر کے بعد شروع ہوگا ایس آئی آر، ووٹروں کی تعداد 5.5 کروڑ تک پہنچنے کا امکان

Thu, 18 Sep 2025 13:30:25    S O News

بنگلورو، 18/ ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی)کرناٹک میں انتخابی فہرستوں کو درست کرنے اور نئے اہل رائے دہندگان کو شامل کرنے کے مقصد سے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے فیصلہ کیا ہے کہ 25؍ ستمبر کے بعد کسی بھی وقت اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کا آغاز کیا جائے گا۔ ریاست میں اس سے قبل آخری مرتبہ یہ عمل 2002 میں انجام دیا گیا تھا، جس کے بعد اب دو دہائیوں کے وقفے کے بعد ایک بار پھر اس مشق کو شروع کیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس دوران فرضی ووٹروں، ہجرت کرجانے والے یا فوت شدہ افراد کے نام فہرست سے حذف کیے جائیں گے اور نئے اہل ووٹروں کا اندراج کیا جائے گا۔ خاص طور پر بنگلورو جیسے شہری علاقوں میں ووٹنگ فیصد بڑھانے پر توجہ دی جارہی ہے، کیونکہ ان شہروں میں ووٹ ڈالنے کی شرح ریاستی اوسط کے مقابلے ہمیشہ کم رہی ہے۔ 2002 میں ووٹروں کی تعداد تقریباً ساڑھے تین کروڑ تھی، لیکن اس بار یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ 2025 تک یہ تعداد بڑھ کر ساڑھے پانچ کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

اسپیشل ریویژن کے دوران ہر بلاک لیول آفیسر کو ایک پولنگ بوتھ کی ذمہ داری دی جائے گی اور ان کے لیے اعزازیہ بھی دوگنا بڑھا دیا گیا ہے۔ اسکول کے اساتذہ، آنگن واڑی کارکنان اور سرکاری ملازمین کو اس عمل میں شامل کیا جائے گا، جبکہ ہر بوتھ پر خصوصی مراکز قائم ہوں گے تاکہ ووٹر اپنے اندراج اور درستگی کے عمل کو آسانی سے مکمل کرسکیں۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ فارم جمع کرانے کے لیے صرف ایک ہی مرکز ہوگا تاکہ نقل اندراج کو روکا جاسکے۔ جو افراد آن لائن اندراج نہیں کرپائیں گے وہ براہ راست مقررہ مراکز میں BLO کے پاس فارم داخل کرسکیں گے۔ یکم جولائی 1987 کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے شناختی دستاویزات لازماً پیش کرنا ہوں گے۔ کمیشن نے مزید بتایا کہ فرضی اعلان کرنے والوں کے خلاف عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

اس مشق میں سرکاری شناختی کارڈ، پاسپورٹ، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، تعلیمی اسناد اور دیگر سرکاری دستاویزات کو بطور ثبوت قبول کیا جائے گا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے انتخابی فہرستوں میں شفافیت آئے گی اور ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں آئندہ انتخابات میں شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں ووٹنگ فیصد میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔


Share: