بنگلورو، 16؍ ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی):وزیراعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ آئین کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور اس فریضے کی ادائیگی کے بغیر جمہوریت کو مستحکم نہیں بنایا جاسکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ووٹوں کی خرید و فروخت اور عوام کو مذہب کے نام پر گمراہ کرنے کی سازشیں دراصل جمہوریت کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش ہیں، جنہیں ہر حال میں ناکام بنانا ضروری ہے۔
سدارامیا ودھان سودھا کے بینکویٹ ہال میں محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے منعقدہ **بین الاقوامی یومِ جمہوریت** کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے جہاں یکجہتی کے لیے جمہوری ڈھانچہ ناگزیر ہے۔ تاہم ذات پات اور سماجی نابرابری نے معاشرے میں گہری جڑیں جما رکھی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب آئین نافذ کیا گیا تھا تو اس وقت ہی متنبہ کیا گیا تھا کہ سیاسی آزادی تبھی کامیاب ہوگی جب عوام کو سماجی، تعلیمی اور معاشی مساوات میسر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ڈاکٹر امبیڈکر نے ایک شخص، ایک ووٹ اور ایک قدر کی بات کہی تھی، لیکن آج اس اصول کو کمزور کرنے کے لیے منصوبہ بند سازشیں ہو رہی ہیں۔‘‘
سدارامیا نے عوام سے اپیل کی کہ ووٹ کی طاقت کو پیسے اور مذہبی جنونیت کے ذریعے ضائع نہ ہونے دیں۔ ان کے مطابق جمہوریت کی حفاظت دراصل عوامی حقوق کی حفاظت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدیوں سے خواتین اور پسماندہ طبقات تعلیم اور مواقع سے محروم رہے ہیں، اس لیے مساوات کے قیام اور ذات پات کے خاتمے کے لیے رواداری اور باہمی ہم آہنگی کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ نے حالیہ تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادیبہ بانو مشتاق کو دسہرا تقریب کا افتتاح کرنے پر اعتراض کرنا جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو مذہب کی بنیاد پر الگ تھلگ کرنا نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ آئینی اقدار کی توہین ہے۔
مزید برآں، سدارامیا نے بتایا کہ حکومت نے ریاست کے تمام اسکولوں میں آئین کی تمہید (پری ایمبل) پڑھنے کو لازمی قرار دیا ہے تاکہ نئی نسل آئینی اقدار اور اپنے حقوق و فرائض سے واقف ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آئین کی صحیح سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے لوگ گمراہ کن سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں، اس لیے ہر شہری کو آئین کے تقاضوں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے۔‘‘