بینگلورو، 22 / فروری (ایس او نیوز) کرناٹکا لوک آیوکتہ نے مبینہ طور پر ایک ٹھیکیدار سے رشوت لینے کے الزام میں بی جے پی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر چندرو لمانی کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق رشوت قبول کرنے الزام میں ایم ایل اے ڈاکٹر چندرو کے علاوہ ان کے پرسنل اسسٹنٹ منجو ناتھ والمیکی اور گرو نائیک کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔
لوک آیوکتہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر چندرو لمانی نے سڑک کنارے رکاوٹی دیوار تعمیر کرنے کے لئے بنایا گیا ایک کروڑ روپے لاگت کا ٹھیکہ دینے کے لئے کلاس ۱ ٹھیکیدار وجئے پوجار سے 11 لاکھ روپے کمیشن طلب کیا تھا ۔ پوجار نے ایم ایل اے کو رشوت دینے کے بجائے پوجار نے لوک آیوکتہ کے پاس شکایت درج کروائی ۔
لوک آیوکتہ کے ایس پی سدالنگپّا نے بتایا : "دو دن پہلے لمانی کی طرف سے رقم طلب کرنے والی ایک آڈیو گردش کرنے لگی ۔ ہم نے ثبوت کے طور پر اس آڈیو کلپ کو حاصل کیا ۔ اس کی بنیاد پر ایک ایف آئی آر درج کرنے کے بعد جال بچھایا گیا اور ملزمین کو رشوت کی پیشگی رقم وصول کرتے وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ۔ مزید تفتیش جاری ہے ۔"
اس معاملے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کرناٹکا کنٹراکٹرس ایسو سی ایشن کے صدر منجو ناتھ نے کہا کہ "منتخب نمائندوں کو اس طرح کی حرکتوں میں ملوث نہیں ہونا چاہیے ۔ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کمیشن طلب کرنے کی باتیں بے بنیاد نہیں تھیں ۔ یہ ٹھیکیداروں کی جیت ہے ۔" منجو ناتھ نے شکایت کنندہ کو مکمل حمایت دینےکا تیقن دیا ۔
لیجسلیٹیو کاونسل میں حزب اختلاف کے لیڈر چلوادی نارائین سوامی نے کہا " ابھی اس معاملے کی پوری تفصیلات میرے علم میں نہیں ہیں ۔ ہماری پارٹی نے کبھی رشوت خوری کی حمایت نہیں کی ہے ۔ پوری طرح تفتیش کے بعد ہی سچائی سامنے آئے گی ۔"
اس دوران وزیر اعلیٰ سدا رامیا نے بی جے پی کو لتاڑتے ہوئے کہا کہ " اب بی جے پی لیڈران کیا کہیں گے ؟ انہیں اس کا جواب دینا چاہیے ۔ ہے نا؟ دوسروں کو بدعنوانی اور رشوت خوری کے الزامات لگانا آسان ہوتا ہے ۔"
دوسری طرف نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوا کمار نے چٹکی لیتے ہوئے کہا :" کیا بی جے پی کے لیڈران ملک میں سب سے زیادہ ایماندار نہیں ہیں؟ بی جے پی لیڈران بدعنوان نہیں ہو سکتے ۔ کسی نے آپ کو غلط معلومات دی ہوگی ۔ لوک آیوکتہ کی طرف سے بیان آنے دو ۔ پھر میں تبصرہ کروں گا ۔"