بنگلورو، 4 فروری (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز ایک اہم قرارداد منظور کی گئی جس میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ’’وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (دیہی)‘‘ یعنی وی بی جی رام جی قانون کو فوری طور پر واپس لے اور اس کی جگہ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو اس کی اصل شکل میں بحال کرے۔
ایوان میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ 2005 میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں نافذ کیا گیا منریگا قانون دیہی غریبوں کے لیے معاشی تحفظ، روزگار کے حق کی ضمانت، جبری ہجرت کی روک تھام، خواتین کی شمولیت اور پنچایتی راج نظام کو مضبوط بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوا تھا۔ اسمبلی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ قانون دیہی معیشت کو سہارا دینے میں نہایت مؤثر رہا ہے۔
قرارداد میں الزام عائد کیا گیا کہ مرکزی حکومت نے ریاستوں سے مشاورت کے بغیر یکطرفہ طور پر نیا قانون نافذ کیا، جو وفاقی ڈھانچے کی روح کے خلاف ہے۔ ایوان کے مطابق وی بی جی رام جی قانون آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل حقِ زندگی اور روزگار سے متصادم ہے اور 73ویں آئینی ترمیم کے ذریعے گرام پنچایتوں کو دیے گئے اختیارات کو بھی محدود کرتا ہے۔
اسمبلی نے مالی پہلوؤں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ منریگا کے تحت 100 دن کی مزدوری کا مکمل خرچ مرکزی حکومت برداشت کرتی تھی، جبکہ نئے قانون میں 40 فیصد مالی بوجھ ریاستوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ ایوان کے مطابق اگرچہ نئے قانون میں 125 دن روزگار دینے کی بات کی گئی ہے، لیکن عملی طور پر اس کا بڑا بوجھ ریاستی خزانے پر پڑے گا، جو معاشی طور پر تشویشناک ہے۔
ایوان کو بتایا گیا کہ کرناٹک ملک کی اُن ریاستوں میں شامل ہے جو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتی ہیں اور پنچایتی سطح پر بہتر مالی نظم و نسق رکھتی ہیں، اس کے باوجود مختلف مالیاتی کمیشنوں میں ریاست کے حصے میں کمی کی گئی ہے۔ ایسے حالات میں اضافی مالی ذمہ داری عائد کیا جانا ریاست کی مالی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
قرارداد میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ منریگا کے تحت مقامی ضروریات کے مطابق دیہی اثاثوں کی تعمیر کی جاتی تھی، جیسے کھیتوں تک سڑکیں، مویشی باڑے، اسکولوں کی چہار دیواری، پنچایت عمارتیں اور کھیل کے میدان۔ اس کے برعکس نئے قانون کو ’’پی ایم گتی شکتی‘‘ منصوبے سے جوڑ کر بڑی سڑکوں اور شاہراہوں تک محدود کر دیا گیا ہے، جس سے مبینہ طور پر ٹھیکیداروں اور کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے جبکہ مقامی ضروریات نظر انداز ہو رہی ہیں۔
اسمبلی نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئے قانون میں کام کے دنوں میں کمی، اجرت کی واضح ضمانت کا فقدان اور تمام گرام پنچایتوں کی شمولیت سے متعلق غیر یقینی صورت حال کے باعث خواتین، درج فہرست ذات و قبائل، قبائلی طبقات اور غریب کسان سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
ان تمام نکات کی بنیاد پر کرناٹک اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وی بی جی رام جی قانون کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور منریگا کو اس کی اصل روح اور ڈھانچے کے ساتھ بحال کیا جائے۔ ایوان نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ منظور شدہ قرارداد کو مرکزی حکومت اور صدرِ جمہوریہ ہند کو ارسال کیا جائے گا۔