ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 13 ہزار بچوں کی گمشدگی، بنگلورو سرفہرست

کرناٹک میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 13 ہزار بچوں کی گمشدگی، بنگلورو سرفہرست

Tue, 03 Jun 2025 18:25:37    S O News

بینگلورو، 3/ جون (ایس او نیوز) کرناٹک سے بچوں کی گمشدگی سے متعلق تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں نابالغوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بنگلورو مرر کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ریاست بھر میں تقریباً 13 ہزار بچے لاپتہ ہوئے ہیں، جو ایک سنگین سماجی مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان گمشدگیوں میں سب سے زیادہ کیسز ریاست کے دارالحکومت بنگلورو سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2020 سے 2024 کے درمیان بچوں کے اغوا کے کل 12,790 واقعات درج کیے گئے، جن میں سے تقریباً 1300 سے زائد بچوں کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

اغوا ہونے والے بچوں کی فہرست میں ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اغوا ہونے والے زیادہ تر بچے لڑکیاں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ بچے عموماً روزمرہ کے معمولات کے دوران غائب ہوئے، جیسے کہ اسکول جانا، ٹیوشن کلاسز میں شرکت کرنا یا دیگر روزمرہ کے کام کرنا۔ ان غیر متوقع غائب ہونے کے واقعات نے والدین کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا ہے اور پولیس کے سامنے ایک بڑا چیلنج بھی کھڑا کر دیا ہے۔

بنگلورو مرر کی رپورٹ کے مطابق، ریاست بھر میں سب سے زیادہ بچوں کے اغوا کے واقعات بنگلورو سے سامنے آئے ہیں، جس کے بعد جنوبی اضلاع جیسے ٹمکورو، شیموگہ، منڈیا، داونگیرے، ہاسن، چترادرگہ اور میسورو شامل ہیں، جہاں گزشتہ پانچ سالوں میں بچوں کے اغوا کے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر، ریاستی اور مرکزی حکومتوں نے لاپتہ بچوں کی بازیابی کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے تاکہ ان معصوم بچوں کو جلد از جلد بازیاب کیا جا سکے۔

ساتھ ہی مسلسل بچوں کے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات نے یہ تشویش پیدا کر دی ہے کہ کئی بچے منظم جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھوں فریب خور ہو کر انسانی اسمگلنگ، جبری مزدوری، اعضا کی فروخت، جنسی استحصال اور جبری بھیک مانگنے جیسے سنگین جرائم میں پھنس گئے ہیں۔ پولیس ان سرگرمیوں کی سختی سے تفتیش کر رہی ہے اور ان جرائم پیشہ نیٹ ورکس پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ بچوں کو جلد از جلد بچایا جا سکے اور ان جرائم کا خاتمہ کیا جا سکے۔


Share: