پٹنہ،6/ جو ن (ایس او نیوز /ایجنسی )ہندوستانی عدلیہ میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے درمیان ایک اور تاریخی کامیابی درج ہوئی ہے۔ میناکشی مدن رائے نے جمعہ (5 جون) کو پٹنہ ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھایا۔ اس کے ساتھ ہی وہ شمال مشرقی ہندوستان سے کسی ہندوستانی ہائی کورٹ کی چیف جسٹس بننے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔
میناکشی مدن رائے نے جسٹس سنگم کمار ساہو کی جگہ لی ہے۔ ان کی تقرری کو نہ صرف سکم بلکہ پورے شمال مشرقی خطے کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالتی اور قانونی برادری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ تقرری اعلیٰ عدلیہ میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار اور نمائندگی کی علامت ہے۔ ان کا عدالتی سفر 3 دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ انہوں نے 1990 میں سکم کی پہلی خاتون جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس اور سول جج کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت ان کی یہ کامیابی ریاست کی عدالتی نظام میں خواتین کی نمائندگی اور پیش رفت کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل مانی گئی تھی۔
اس کے بعد میناکشی مدن رائے نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، ضلع و سیشن جج، سکم ہائی کورٹ کی رجسٹرار جنرل اور قائم مقام چیف جسٹس جیسے اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ 2015 میں وہ سکم ہائی کورٹ کی جج بننے والی ریاست کی پہلی خاتون بنیں، اور اب پٹنہ ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کے طور پر انہوں نے ایک اور تاریخی مقام حاصل کر لیا ہے۔
پٹنہ ہائی کورٹ میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب میں ججوں، سینئر وکلا، سرکاری افسران اور قانونی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر جسٹس میناکشی مدن رائے کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی گئیں۔ سکم کے سیاسی، سماجی اور قانونی حلقوں سے وابستہ افراد نے بھی ان کی تقرری کا خیر مقدم کیا ہے۔ اسے ہمالیائی ریاست کے لیے باعث فخر لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ جسٹس میناکشی مدن رائے کی یہ کامیابی ملک بھر کی خواتین قانون دانوں اور عدالتی خدمات میں آنے والی نوجوان خواتین کے لیے مشعل راہ بنے گی۔
واضح رہے کہ شمال مشرقی ریاستوں سے اعلیٰ عدلیہ میں کئی ممتاز جج خدمات انجام دے چکے ہیں، لیکن کسی ہندوستانی ہائی کورٹ کی سربراہی کرنے والی خاتون جج کے طور پر یہ پہلی تقرری ہے۔ اسے عدلیہ میں علاقائی اور صنفی نمائندگی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔