بھٹکل 6/جون (ایس او نیوز) : اُترکنڑا ضلع کی سرحد سے متصل ریاست گوا کے شمالی علاقے ماپوسا میں سڑک کنارے کچرا پھینکنے کے الزام میں پولیس اسٹیشن طلب کیے گئے ایک 22 سالہ کالج طالب علم کی تفتیش کے چند گھنٹوں بعد پراسرار حالات میں موت واقع ہونے سے ریاست بھر میں ہلچل مچ گئی ہے، جبکہ پولیس کی کارروائی اور سوشل میڈیا پر ہونے والی عوامی تنقید کو لے کر کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نوجوان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں اسے مبینہ طور پر عوامی مقام پر کچرا پھینکتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے شکایت درج کرتے ہوئے اس کے خلاف گوا نان بایو ڈی گریڈیبل گاربیج (کنٹرول) ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کیا اور اسے ماپوسا پولیس اسٹیشن طلب کرکے کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی کے بعد نوجوان کو نوٹس جاری کرکے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ شمالی گوا کے ایس ڈی پی او سلیم شیخ کے مطابق یہ کارروائی معمول کے قانونی طریقہ کار کے مطابق انجام دی گئی اور متعلقہ قانون کے تحت عموماً جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، اگرچہ عدالت کو قید کی سزا سنانے کا اختیار بھی حاصل ہے۔
تاہم متوفی کے اہل خانہ نے پولیس کے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ نوجوان کو پولیس اسٹیشن میں طویل وقت تک بٹھایا گیا اور اسے بتایا گیا کہ تفتیش مکمل ہونے تک وہ ریاست سے باہر نہیں جا سکتا۔ خاندان کے مطابق ویڈیو کے وائرل ہونے، سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور پولیس کارروائی نے اسے شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تقریباً ڈیڑھ سے دو بجے کے درمیان نوجوان کی موت کی اطلاع ملی۔ ابتدائی تحقیقات میں اس کے جسم پر گولی لگنے کے آثار پائے گئے ہیں۔ پولیس نے غیر فطری موت کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کے پاس اسلحہ کہاں سے آیا۔ حکام کے مطابق موقع سے کوئی خودکشی نوٹ بھی برآمد نہیں ہوا۔
واقعے کے بعد گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان کی موت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر کسی قسم کی لاپروائی یا زیادتی سامنے آتی ہے تو مناسب کارروائی کی جائے گی۔
دریں اثنا، اس واقعے نے گوا میں سیاسی اور سماجی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف سماجی کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں نے سوال اٹھایا ہے کہ معمولی نوعیت کے ماحولیاتی خلاف ورزی کے معاملے میں سوشل میڈیا پر عوامی شرمندگی اور بعد کی قانونی کارروائی کس حد تک مناسب تھی۔ کئی حلقوں کا ماننا ہے کہ نوجوان کے خلاف چلائی گئی آن لائن مہم اور اس کی شناخت کو نمایاں کیے جانے سے اس پر غیر معمولی نفسیاتی دباؤ پڑا۔
گوا کے متعدد اخبارات اور ٹی وی چینلز اس واقعے کو ’’سوشل میڈیا ٹرائل‘‘ اور ’’عوامی شرمندگی‘‘ کے ممکنہ خطرناک نتائج کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ پولیس تحقیقات اور سرکاری انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ نوجوان کی موت کے پس منظر میں کن عوامل نے بنیادی کردار ادا کیا۔