ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / وقف بل پرپارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ؛ جے پی سی رپورٹ پر اپوزیشن نے من مانی کا الزام لگاتے ہوئے کیا شدید احتجاج

وقف بل پرپارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ؛ جے پی سی رپورٹ پر اپوزیشن نے من مانی کا الزام لگاتے ہوئے کیا شدید احتجاج

Thu, 13 Feb 2025 18:23:28    S O News
وقف بل پرپارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ؛ جے پی سی رپورٹ پر اپوزیشن نے من مانی کا الزام لگاتے ہوئے کیا شدید احتجاج

نئی دہلی 13/فروری (ایس او نیوز) پارلیمنٹ میں جمعرات کو وقف (ترمیمی) بل پر زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی، جب مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) نے مسلمانوں کی وقف جائیدادوں پر قبضہ کیلئے لائے گئے مرکزی حکومت کے متنازع وقف (ترمیمی) بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا۔ بل پراپوزیشن نے الزام لگایا کہ حکومت نے جے پی سی رپورٹ سے ان کے اختلافی نوٹس حذف کر دیے ہیں، جسے غیر جمہوری اور غیر آئینی عمل قرار دیا گیا۔

:راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی اور کارروائی کی معطلی

جیسے ہی بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ میدھا وشرام کلکرنی نے راجیہ سبھا میں رپورٹ پیش کی، اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔ قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا کہ جے پی سی کی رپورٹ میں کئی ارکانِ پارلیمنٹ کے اختلافی نوٹس شامل نہیں کیے گئے، جو ایک غیر جمہوری رویہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایوان اس فرضی رپورٹ کو نہیں مانے گا۔ میری گزارش ہے کہ اگر اس میں اختلافی نوٹ ہٹائے گئے ہیں تو رپورٹ کو واپس جے پی سی میں بھیجا جائے اور اس میں اراکین پارلیمنٹ کے اختلافی نوٹ شامل کر کے اسے دوبارہ پیش کیا جائے۔ کھرگے کے مطابق آپ ہماری بات سے متفق یا غیر متفق ہو سکتے ہیں لیکن اس کو کوڑے دان میں کیسے ڈال سکتے ہیں؟

کھرگے نے کہا، "اگرآج وقف کی جائیدادوں پر حکومت قبضہ کر رہی ہے تو کل یہی عمل مندروں، گوردواروں اور چرچوں کی ملکیت پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہم اس ناانصافی کو قبول نہیں کریں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری عمل میں تمام اراکین کی رائے شامل ہونی چاہیے اور ایسی کسی بھی "جعلی رپورٹ" کو ایوان قبول نہیں کرے گا۔

اسپیکر جگدیپ دھنکھر نے اپوزیشن ممبران کو خاموش کرانے کی کوشش کی لیکن احتجاج جاری رہا، جس پر وہ ناراض ہوگئے اور ایوان کی کارروائی کو ملتوی کر دیا۔ بعد ازاں کارروائی دوبارہ شروع ہوئی لیکن ہنگامہ تھم نہ سکا، جس پر دھنکھر نے اپوزیشن ارکان کو تنبیہ کی کہ وہ "بنیادی آداب سیکھیں۔" اس دوران اپوزیشن نے حکومت پر جمہوری اصولوں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔

لوک سبھا میں بھی زبردست احتجاج، اپوزیشن کا واک آؤٹ:

راجیہ سبھا کے بعد جب لوک سبھا میں جے پی سی رپورٹ پیش کی گئی، تو وہاں بھی اپوزیشن نے سخت اعتراضات اٹھائے۔ جے پی سی کمیٹی کے چیئرمین جگدمبیکا پال نے 'بھارت ماتا کی جے' کے نعرے لگاتے ہوئے رپورٹ پیش کی، جس پر اپوزیشن نے مزید برہمی کا اظہار کیا۔

اپوزیشن اراکین نے اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کرکے شکایت درج کرائی کہ ان کے اختلافی نوٹس ہٹائے جا رہے ہیں۔ اس کے جواب میں اسپیکر نے وضاحت دی کہ اختلافی نوٹس رپورٹ میں شامل ہیں، تاہم اپوزیشن کا موقف تھا کہ ان نوٹس کو کاٹ چھانٹ کر شامل کیا گیا ہے، جو کہ سنسرشپ کے مترادف ہے۔ اس کے بعد اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

کرن رجیجو اور اپوزیشن میں تکرار:

پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ایوان میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ "رپورٹ میں کچھ بھی حذف نہیں کیا گیا ہے، اپوزیشن ایوان کو گمراہ کر رہی ہے۔" تاہم کانگریس کے ناصر حسین نے اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا، "میرا ہی اختلافی نوٹ تھا، جو رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا، جبکہ یہ پبلک ڈومین میں موجود ہے۔ یہ رپورٹ فرضی ہے اور اسے واپس کرنا ہوگا۔"

ترنمول کانگریس نے بھی احتجاج میں حصہ لیا اور کہا کہ "یہ مذہب سے نہیں بلکہ آئین سے جڑا معاملہ ہے۔ اختلافی نوٹس کو دانستہ طور پر حذف کیا گیا ہے، جو کہ ایک غیر آئینی عمل اور اظہارِ رائے پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔"

امت شاہ کا بیان؛

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن کے اعتراضات پر کہا، "آپ جو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں، شامل کریں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔" تاہم، اپوزیشن نے اس بیان کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جے پی سی رپورٹ کو مکمل شفافیت کے ساتھ دوبارہ پیش کیا جائے۔

بہر حال وقف (ترمیمی) بل پر پارلیمنٹ میں شدید تنازع دیکھنے کو ملا، جہاں حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے آگئے۔ اپوزیشن نے بل کو "وقف جائیدادوں پر قبضے کی کوشش" قرار دیا، جبکہ حکومت نے اسے اصولوں کے مطابق تیار کردہ رپورٹ کہا۔ دونوں ایوانوں میں ہنگامہ آرائی، کارروائی کی معطلی، اور اپوزیشن کے واک آؤٹ سے یہ واضح ہوگیا کہ اس بل پر اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں، اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید سیاسی گرما گرمی متوقع ہے۔


Share: