بھوپال ، 18/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )مدھیہ پردیش کے بھوپال میں آئی ایس بی ٹی پر واقع پٹرول پمپ کی زمین الاٹمنٹ سے متعلق معاملے میں ای او ڈبلیو نے اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر ہیمنت کٹارے، ان کے بھائی، بیوی، ماں اور دو افسران کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ کٹارے پر ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے بی جے پی پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ایکس‘ پر کہا کہ ’’مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں عجیب بات یہ ہے کہ نرسنگ اور ٹرانسپورٹ گھوٹالوں کو بے نقاب کرنے والے اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر ہیمنت کٹارے پر جعلی مقدمہ درج کیا گیا ہے، لیکن اس گھوٹالے میں ملوث ایک کانسٹیبل جس کے پاس 100 کروڑ روپے سے زیادہ کی دولت ہے، بی جے پی کے وزیروں یا افسران کے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں کی گئی، اور نہ ہی کوئی کارروائی کی گئی۔‘‘
اس پوسٹ میں جئے رام رمیش نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’پورے مدھیہ پردیش کے لوگوں کو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ کانگریس کا کارکن جھکے گا نہیں، لڑے گا۔ پورا کانگریس کنبہ اس ظلم کے خلاف آپ کے ساتھ ہے۔‘‘ اس ٹوئٹ پر ہیمنت کٹارے کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ انھوں نے ریپلائی میں لکھا ہے کہ ’’شکریہ جئے رام جی، سچائی اور انصاف کی اس لڑائی میں ساتھ کھڑے ہونے کے لیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ناانصافی کتنی بھی طاقتور ہے، بالآخر سچائی کی ہی فتح ہوتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’جنگ جاری رہے گی، اور اسی طرح پوری طاقت کے ساتھ بی جے پی کی بدعنوانی اور دیگر سیاہ کارناموں کو سامنے لاتے رہیں گے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے سابق کانسٹیبل سوربھ شرما کے معاملے میں ڈپٹی لیڈر ہیمنت کٹارے نے ایک پریس کانفرنس کر سابق وزیر برائے ٹرانسپورٹ بھوپیندر سنگھ پر کئی طرح کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ انھوں نے سوربھ کی تقرری سے متعلق سفارش کا الزام بھی سابق وزیر پر عائد کیا تھا۔ اس کے بعد سابق وزیر بھوپیندر سنگھ نے وزیر اعلیٰ اور ای او ڈبلیو، لوک آیُکت اور ڈی جی پی کو خط لکھ کر بھوپال کے آئی ایس بی ٹی واقع ہیمنت کٹارے کے پٹرول پمپ کی زمین الاٹمنٹ میں بے ضابطگی سمیت کچھ معاملوں میں جانچ کر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ای او ڈبلیو نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی ہے۔