ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دھنکھڑ نے مسلم مخالف بیان دینے والے جسٹس یادو کے مواخذے سے متعلق نوٹس سپریم کورٹ کو بھیجنے کی ہدایت دی

دھنکھڑ نے مسلم مخالف بیان دینے والے جسٹس یادو کے مواخذے سے متعلق نوٹس سپریم کورٹ کو بھیجنے کی ہدایت دی

Sat, 15 Feb 2025 10:56:08    S.O. News Service

نئی دہلی ، 15/فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شیکھر یادو کے مسلمانوں کے خلاف مبینہ قابل اعتراض تبصرے کے معاملے میں مواخذے کی کارروائی شروع کرنے سے قبل، راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے نوٹس کو سپریم کورٹ کے جنرل سکریٹری کے ساتھ شیئر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ دھنکھڑ نے واضح کیا کہ یہ عمل آئینی طور پر پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ امکان ہے کہ جسٹس یادو کے خلاف الزامات کی جانچ کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جا سکتی ہے۔

دھنکھڑ نے راجیہ سبھا میں وقفہ سوال کے دوران اپوزیشن کے نوٹس پر کہا کہ انھیں 13 دسمبر 2024 کو مواخذہ کی تجویز کے لیے بغیر تاریخ والا نوٹس ملا ہے۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے نوٹس میں آئین کے آرٹیکل 124(4) کے تحت جسٹس یادو کو عہدہ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ چیئرمین دھنکھڑ نے کہا کہ اس موضوع کا حلقہ اختیار آئینی طور سے راجیہ سبھا کے چیئرمین، صدر جمہوریہ اور پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ پبلک نوٹس کے مدنظر یہ مناسب ہے کہ راجیہ سبھا کے جنرل سکریٹری اس کی جانکاری سپریم کورٹ کے جنرل سکریٹری کے ساتھ شیئر کریں۔

قابل ذکر ہے کہ جسٹس یادو پر گزشتہ سال 8 دسمبر کو وی ایچ پی کی ایک تقریب میں حصہ لینے اور اس دوران مسلمانوں کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کا الزام ہے۔ جسٹس یادو نے کہا تھا کہ اکثریتی طبقہ کے مطابق ہی ملک چلے گا، یہی قانون ہے۔ اس دوران ان پر یہ کہنے کا بھی الزام ہے کہ کٹھ مُلّے ملک کے لیے خطرناک ہیں۔

مسلمانوں پر اس قابل اعتراض تبصرہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن کے 55 اراکین پارلیمنٹ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شیکھر یادو کے خلاف مواخذہ تجویز کا نوٹس دیا تھا۔ گزشتہ سال 13 دسمبر کی اس تجویز میں جسٹس یادو پر عدالتی زندگی کی اقدار کی بحالی- 1997 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکساں سول کوڈ سے جڑے سیاسی معاملوں پر عوامی بحث میں شامل ہونے و خاص مذہب پر قابل اعتراض تبصرہ کا الزام ہے۔ جسٹس شیکھر کے بیان پر تنازعہ بڑھنے کی صورت میں سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا۔ سپریم کورٹ کے کالجیم نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ارون بھنسالی کو خط لکھ کر معاملے پر جسٹس یادو کا رد عمل مانگا تھا۔ جواب میں جسٹس یادو نے کہا کہ وہ اپنے تبصرہ پر قائم ہیں، جو عدالتی روش کے کسی اصول کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔

بہرحال، مواخذہ کا عمل شروع کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے جانکاری شیئر کرنے کے بعد چیئرمین دھنکھڑ نوٹس کے خوبی و خامی کی بنیاد پر منظور یا نامنظور کریں گے۔ منظور کرنے کی حالت میں الزامات کی جانچ کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ کمیٹی میں سپریم کورٹ کے ایک جج، کسی بھی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور آئین کے ماہر کو شامل کیا جائے گا۔ یہ کمیٹی رپورٹ چیئرمین کو دے گی۔ کمیٹی کی طرف سے الزام درست پائے جانے کی حالت میں متعلقہ شخص کو عہدہ سے ہٹانے کے لیے ووٹنگ کرائی جائے گی۔ عہدہ سے ہٹانے کے لیے تجویز کے حق میں موجود اراکین پارلیمنٹ میں سے دو تہائی اراکین پارلیمنٹ کی حمایت ضروری ہے۔


Share: