ڈھاکہ، 22/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے سربراہ دلجیت سنگھ چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ بنگلہ دیش میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ہندوستان میں بنگلہ دیشیوں کی غیر قانونی دراندازی میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ انہوں نے اس کمی کا سہرا بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کے تعاون کو دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کی سرحدی افواج کی مشترکہ کوششوں سے یہ ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بی جی بی کو سرحد پر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ غیر قانونی دراندازی کے ساتھ ساتھ بی ایس ایف اہلکاروں اور عام شہریوں پر حملوں جیسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
بی ایس ایف چیف دلجیت سنگھ چودھری اور بارڈر گارڈ بنگلہ دیش چیف ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اشرف الزماں صدیقی نے 3 روزہ میٹنگ میں بہت سے ایشوز پر بات چیت کی۔ ان میں ہندوستان کی توجہ غیر قانونی دراندازی، بی ایس ایف جوانوں اور شہریوں پر حملے، ہندو اقلیتوں کے ساتھ ہوئے پرتشدد واقعات پر تھی۔ دوسری طرف بنگلہ دیش نے زیرو لائن کے پاس 150 گز کی دوری میں ہندوستان کی طرف سے کی جا رہی فنسنگ (باڑ لگانا) کا ایشو اٹھایا۔
دہلی میں دونوں ممالک کے درمیان 55واں ڈائریکٹر جنرل سطحی بارڈر مذاکرہ پروگرام 17 سے 20 فروری تک چلا۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بی ایس ایف ڈائریکٹر جنرل دلجیت سنگھ چودھری نے کہا کہ ہندوستانی فریق نے میٹنگ کے دوران بی جی بی سے گزارش کی کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ سرحد پوری طرح سے محفوظ رہے اور سرحد پر کوئی دراندازی نہ ہو۔ اس سے بنگلہ دیشی جرائم پیشوں کی جانب سے بی ایس ایف اہلکاروں اور مقامی ہندوستانیوں پر حملہ کے واقعات نہیں ہوں گے۔
بنگلہ دیش سے ہندوستان میں غیر قانونی دراندازی کے واقعات کے بارے میں سوال کیے جانے پر دونوں سربراہان نے کہا کہ گزشتہ سال 5 اگست کے بعد 4096 کلومیٹر طویل بین الاقوامی سرحد پر ایسے واقعات میں کمی آئی ہے۔ دلجیت سنگھ چودھری نے کہا کہ ’’دراندازی میں بہت کمی واقع ہوئی ہے اور یہ بی جی بی کی مدد سے ممکن ہوا ہے۔ پورے بحران (گزشتہ حکومت کے زوال) کے دوران بی جی بی ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی رہی اور سرحد پر امن بنائے رکھنے میں ہماری مدد کی۔‘‘