ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پچھلے 4 دنوں میں مایاوتی کے 3 بڑے فیصلے، جانشینی کے معاملے پر پارٹی میں ہلچل

پچھلے 4 دنوں میں مایاوتی کے 3 بڑے فیصلے، جانشینی کے معاملے پر پارٹی میں ہلچل

Sun, 16 Feb 2025 19:20:03    S O News

لکھنؤ، 16/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر اور اترپردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی کے حالیہ تین اہم فیصلوں نے پارٹی کے اندر ہلچل مچا دی ہے۔ بی ایس پی کے بیشتر لیڈران ان فیصلوں پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور کسی بھی ردعمل سے گریز کر رہے ہیں۔ اندرونی ذرائع کے مطابق، پارٹی قیادت ان فیصلوں کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کر رہی ہے۔ گزشتہ چار دنوں میں مایاوتی کی جانب سے لیے گئے ان تین بڑے فیصلوں نے نہ صرف بی ایس پی بلکہ ریاست کی سیاست میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جو معاملہ اب تک بی ایس پی کے اندر غیرمتنازعہ سمجھا جا رہا تھا، مایاوتی کے حالیہ اقدام کے بعد اس پر دوبارہ غور و فکر کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔

بدھ 12 فروری کو بی ایس پی صدر نے اپنے بھتیجے آکاش آنند کے سسر اشوک سدھارتھ کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا۔ ان پر پاٹی میں گروپ بندی کے الزام لگائے گئے۔ اسی دن بی ایس پی صدر نِتن سنگھ کو بھی پارٹی سے نکال دیا۔ ان کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ اشوک سدھارتھ کے قریبی ہیں۔ وہیں اشوک سدھارتھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مایاوتی کی سیاست سے متاثر ہوکر نوکری چھوڑ کر بی ایس پی میں شامل ہوئے تھے۔ پارٹی نے انہیں یوپی قانون ساز کونسل بھیجا اور پھر وہ سال 2022 تک راجیہ سبھا رکن بھی رہے اور ان کی اہلیہ بی ایس پی حکومت میں ریاستی خوتین کمیشن کی صدر بھی تھیں۔

مذکورہ دونوں فیصلوں کے علاوہ 16 فروری کے فیصلے نے پارٹی میں کھلبلی مچا دی ہے۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں پارٹی کے جانشین کے حوالے سے جانکاری دی۔ حالانکہ اب تک یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ ان کی پارٹی کے جانشین ان کے بھتیجے آکاش آنند ہی ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ واضح ہو کہ مایاوتی نے اتوار کو یکے بعد دیگرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر 5 پوسٹ کی۔ ان تمام پوسٹ کا نتیجہ یہ نکل کر سامنے آ رہا ہے کہ وہ آکاش آنند کے حوالے سے پُراعتماد نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’’کانشی رام کی طرح ہی میری زندگی میں بھی پارٹی اور تحریک کا کوئی بھی حقیقی جانشین تبھی جب وہ بھی کانشی رام کے آخری سانس تک ان کے شاگرد کی طرح پارٹی اور تحریک کو ہر دکھ تکلیف اٹھا کر، اسے آگے بڑھانے میں پورے دل و جان سے مسلسل لگا رہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ سال 2019 کے پارلیمانی انتخاب کے بعد سے ہی یہ قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ مایاوتی کے بھتیجے آکاش آنند ہی ان کے جانشین ہوں گے۔ پھر سال 2024 کے انتخاب سے قبل انہیں 2023 میں مایاوتی نے پارٹی کے نیشنل کوآرڈینیٹر کے عہدہ پر تقرر کیا۔ اس کے بعد سال 2024 کے انتخاب کے دوران ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا اور کہا گیا کہ ابھی وہ میچیور نہیں ہیں۔ وہیں مایاوتی نے 2024 کے پارلیمانی انتخاب کے کچھ دنوں بعد ہی آکاش آنند کو پارٹی کا نیشنل کوآرڈینیٹر بنا دیا۔ اس کے بعد دہلی، ہریانہ اسمبلی انتخابات کی ذمہ داری بھی دی لیکن نتیجہ صفر رہا۔ ایسے میں اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ 2017 میں پہلی دفعہ بی ایس پی کے پلیٹ فارم پر آنے والے آکاش آنند کے حوالے سے مایاوتی کیا فیصلہ کرتی ہیں؟


Share: