بنگلورو ، 2/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے تحت آنے والے تمام 5 شہری کارپوریشنوں کے اسکولوں میں طلبہ کے لیے چہرہ شناسی پر مبنی حاضری کا نظام نافذ کیا جائے۔ یہ ہدایت گریٹر بنگلورو ترقیات کے وزیر کرشنا بائرے گوڈا نے محکمہ تعلیم کے خصوصی کمشنر کو دی۔
انہوں نے آج کونسل ہال میں گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے تحت پانچوں شہری بلدیات میں جاری ترقیاتی کاموں، منصوبوں اور مختلف پروگراموں کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں پہلے ہی طلبہ کی چہرہ شناسی پر مبنی حاضری کا نظام نافذ ہے اور اسی طرز پر بلدیاتی اسکولوں میں بھی یہ نظام نافذ کیا جائے۔
وزیر نے افسران کو ہدایت دی کہ اسکول کے طلبہ کو مقررہ وقت پر یونیفارم فراہم کیا جائے اور اس سلسلے میں فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اسکولوں کے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے محکمہ تعلیم کے افسران کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کرکے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے اسکولوں اور کالجوں میں بیت الخلا کی مناسب سہولت یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی۔ جہاں ضرورت ہو، سماجی ذمہ داری کے تحت حاصل ہونے والی رقومات سے نئے بیت الخلا تعمیر کیے جائیں اور ان کی باقاعدہ دیکھ بھال کا بھی انتظام کیا جائے۔
خصوصی کمشنر نے بتایا کہ گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے تحت 94 نرسری، 18 پرائمری، 36 ہائی اسکول، 21 ثانوی، 4 ڈگری اور 2 پوسٹ گریجویٹ اداروں سمیت مجموعی طور پر 175 تعلیمی ادارے ہیں، جہاں موجودہ تعلیمی سال میں 22,210 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان اداروں میں 115 مستقل اور 841 مہمان اساتذہ سمیت مجموعی طور پر 956 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وزیر نے شہر میں جاری وائٹ ٹاپنگ کاموں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ 1,700 کروڑ روپے کی لاگت سے 117 سڑکوں پر مجموعی طور پر 120.60 کلومیٹر وائٹ ٹاپنگ کا کام جاری ہے، جس میں سے 61.43 کلومیٹر کام مکمل ہوچکا ہے۔ باقی 59.26 کلومیٹر کام کو بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
انہوں نے سڑکوں کی تعمیر کے دوران فٹ پاتھ غیر ضروری طور پر اونچے نہ بنانے اور وہیل چیئر کے آسان گزرنے کے لیے مناسب ڈیزائن اختیار کرنے کی ہدایت دی۔ درختوں کے اطراف گھاس والے فرش کے بلاکس لازمی طور پر نصب کرنے کو بھی کہا۔
بیرونی حلقہ سڑک پر ہائی ڈینسٹی کوریڈور منصوبے کے تحت مکمل کیے گئے کاموں میں ہر 20 میٹر کے فاصلے پر ایک بجلی کا کھمبا نصب کیا جانا تھا، لیکن بعض مقامات پر پرانے اور نئے کھمبوں کو ملا کر ہر 5 سے 10 میٹر کے فاصلے پر کھمبے نصب کیے جانے پر وزیر نے سخت ناراضی ظاہر کی۔
انہوں نے افسران سے سوال کیا کہ یہ کام عوام کی سہولت کے لیے کیا جارہا ہے یا صرف ٹھیکیداروں کے بل ادا کرنے کے لیے؟ انہوں نے کہا کہ نئے بجلی کے کھمبے نصب کرتے وقت پرانے کھمبے ہٹائے جانے چاہئیں اور یکساں ڈیزائن کے کھمبے نصب کیے جانے چاہئیں۔
کرشنا بائرے گوڈا نے سخت لہجے میں کہا کہ "کیا آپ بنگلورو کو بہتر بنانے کے لیے کام نہیں کررہے یا اسے خراب کرنے کے لیے کام کررہے ہیں؟"۔ انہوں نے بی اسمیل کے تحت جاری مختلف منصوبوں، بالخصوص بلند شاہراہ اور گردشی پل سمیت دیگر کاموں کے بارے میں تمام شہری بلدیات کے اعلیٰ افسران کو تفصیلی بریفنگ دینے کی بھی ہدایت دی۔
خصوصی کمشنر نے بتایا کہ شہر میں آوارہ کتوں کی نس بندی کی کارروائی میں اضافہ کیا گیا ہے اور روزانہ تقریباً 280 جبکہ ماہانہ تقریباً 7,000 کتوں کی نس بندی کی جارہی ہے۔ سالانہ تقریباً 80,000 نس بندی کی کارروائیاں انجام دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر نے کہا کہ نس بندی کی کارروائیوں میں مزید اضافہ کرنے کے لیے جانوروں کے مراکز کی تعداد بڑھائی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال سمنہلی میں ہی جانوروں کے لیے شمشان گھاٹ موجود ہے، اس لیے دیگر شہری بلدیات میں بھی جانوروں کے شمشان گھاٹ قائم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
وزیر نے شہر کے پارکوں کی ناقص دیکھ بھال پر بھی سخت ناراضی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ متعدد پارکوں میں کچرا جمع ہے اور مناسب دیکھ بھال کیے بغیر صرف دیکھ بھال کے نام پر رقم خرچ کیے جانے کے خدشات ہیں۔
انہوں نے باغبانی شعبے کے افسران سے سوال کیا کہ "کیا آپ پارکوں کی دیکھ بھال کے لیے مختص رقم لوٹ رہے ہیں؟"
کرشنا بائرے گوڈا نے کہا کہ بنگلورو ماضی میں اپنے خوبصورت پارکوں کے لیے مشہور تھا، لیکن آج کئی پارکوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پارکوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی تو اس کی براہِ راست ذمہ داری متعلقہ افسران پر عائد ہوگی۔
اجلاس میں چیف کمشنر مہیشور راؤ، خصوصی کمشنران منیش مودیگل، سشما گوڈبول، نتیش اور وینکٹاچل پتی سمیت مختلف شہری بلدیات کے کمشنران، اعلیٰ افسران، انجینئرنگ شعبے کے سربراہان، چیف شہری منصوبہ ساز، چیف انجینئر، صحت اور شہری منصوبہ بندی کے افسران اور دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔