ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ووٹر فہرست جمہوریت کی بنیاد، کسی اہل ووٹر کا نام حذف نہیں ہونا چاہیے: بی کے ہری پرساد

ووٹر فہرست جمہوریت کی بنیاد، کسی اہل ووٹر کا نام حذف نہیں ہونا چاہیے: بی کے ہری پرساد

Wed, 02 Sep 2026 12:14:00    S O News
ووٹر فہرست جمہوریت کی بنیاد، کسی اہل ووٹر کا نام حذف نہیں ہونا چاہیے: بی کے ہری پرساد

بنگلورو ، 2/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی کے ہری پرساد نے کہا ہے کہ ووٹر فہرست ہی جمہوریت کی بنیاد ہے اور اہل ووٹروں کے نام کسی بھی صورت فہرست سے حذف نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس خصوصی جامع نظرثانی کے خلاف نہیں، بلکہ اس بات کے حق میں ہے کہ اہل شہریوں کا حقِ رائے دہی محفوظ رہے۔

پردیش کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی کے ہری پرساد نے کہا کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں شکست سے دوچار کانگریس امیدواروں کو طلب کرکے ان کے ساتھ خصوصی جامع نظرثانی کے معاملے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ اسمبلی حلقوں کی صورتحال اور مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے علاوہ کلیان کرناٹک میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں، اس پر بھی غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ عوامی مسائل کی جانب مبذول کرانے کے مقصد سے یہ اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر بوتھ سطح کے افسران تعاون نہیں کررہے ہیں، تاہم بیشتر بوتھ سطح کے افسران نے تعاون کیا ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ کئی مقامات پر ووٹر فہرست سے حذف کیے جانے والے ناموں میں کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کی تعداد زیادہ بتائی جارہی ہے۔ اس معاملے میں متعلقہ اضلاع کے انتخابی افسران سے ملاقات کرکے صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

خصوصی جامع نظرثانی کے عمل پر اطمینان کے سوال پر بی کے ہری پرساد نے کہا کہ کانگریس کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ کسی بھی اہل ووٹر کا نام ووٹر فہرست سے خارج نہ ہو۔ انہوں نے اہل ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہوں اور اپنی تفصیلات کی جانچ کرتے ہوئے ضروری کارروائی مکمل کریں۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس ان علاقوں میں بھی بیداری مہم چلا رہی ہے جہاں پارٹی کے موجودہ ارکان اسمبلی نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’ہم خصوصی جامع نظرثانی کے خلاف نہیں ہیں، لیکن ہم اس بات کے حق میں ہیں کہ قانونی طور پر اہل عوام کے حقوق محفوظ رہیں۔‘‘

بی کے ہری پرساد نے کہا کہ ووٹر فہرست پر ہی جمہوری نظام قائم ہے اور اسے محفوظ رکھنا کانگریس کی جدوجہد کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی کمیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہر ہفتہ ہفتہ اور اتوار کو درخواست فارم دستیاب کرائے جائیں اور اہل ووٹروں کو اپنی شکایات اور دعوے پیش کرنے کا مناسب موقع دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اہل ووٹر کو اپنے حق سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔

ریاستی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے بی کے ہری پرساد نے سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپا پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ملک میں بدعنوانی کے بانیوں کا ذکر کیا جائے تو یڈی یورپا کا نام بھی لیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیک کے ذریعے رشوت لینے کے معاملے میں جیل جانے والے شخص کا آج بدعنوانی کے خلاف مہم چلانا مضحکہ خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن کے ذریعے حکومت قائم کرکے اقتدار میں آنے والوں سے کانگریس کو سیاسی سبق سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بی جے پی اور جے ڈی ایس کے ایک ساتھ رہنے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کا ساتھ رہنا ہی بہتر ہے، کیونکہ اس سے ان کے اندر موجود مختلف گروہوں کی سیاسی سرگرمیاں برقرار رہیں گی۔

بی کے ہری پرساد نے کہا کہ ’’سامراٹ اشوک‘‘ اور ’’بیبی یڈی یورپا‘‘ گزشتہ تین برسوں میں کچھ نہیں کر سکے اور اب اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے پدیاترا نکال رہے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کی مجوزہ پدیاترا کو بھی سیاسی دکھاوا قرار دیتے ہوئے اس پر طنز کیا۔

پریس کانفرنس میں سابق رکن قانون ساز کونسل نارائن سوامی اور سابق میئر رام چندراپا بھی موجود تھے۔


Share: