ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / نیپال اور چین میں تباہ کن ہمالیائی سیلاب کے بعد تقریباً 1,500 افراد لاپتہ: 165 ہلاک، ریسکیو آپریشن جاری

نیپال اور چین میں تباہ کن ہمالیائی سیلاب کے بعد تقریباً 1,500 افراد لاپتہ: 165 ہلاک، ریسکیو آپریشن جاری

Thu, 27 Aug 2026 11:36:34    S O News
نیپال اور چین میں تباہ کن ہمالیائی سیلاب کے بعد تقریباً 1,500 افراد لاپتہ: 165 ہلاک، ریسکیو آپریشن جاری

کٹھمنڈو، 27 اگست (ایس او نیوز/ایجنسیاں): ہمالیائی ندی میں مٹی اور چٹانوں کا ایک بڑا تودہ گرنے کے بعد پانی کے انتہائی طاقتور ریلے نے کئی قصبوں اور وادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے نتیجے میں نیپال اور چین کے تبت خطے میں آئے تباہ کن سیلاب میں تقریباً 1,500 افراد لاپتہ ہوگئے ہیں، جن میں کم از کم 800 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ اس بات کی اطلاع  جمعرات کو نیوز ایجنسی رائٹرس نے دی ہے

نیپال میں ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور امدادی سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔ بدھ کے روز پیش آنے والے اس سانحے نے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کو تبت کے شہر لہاسا سے ملانے والے دشوار گزار پہاڑی علاقے کو بری طرح متاثر کیا، جہاں بڑی تعداد میں سیاح، کوہ پیما اور مذہبی زائرین آتے ہیں۔

تازہ ترین نیپالی میڈیا اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 165 افراد کی لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں جبکہ 826 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جمعرات کی صبح دوبارہ شروع کردیا گیا ہے اور سیکیورٹی فورسز دریا کے کناروں، متاثرہ بستیوں اور زیریں علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برآمد ہونے والی 165 لاشوں میں 65 چتوان، 27 دھادنگ، 26 نوال پرسی ایسٹ، 20 گورکھا، 12 نواکوٹ، 9 تنہون، 5 نوال پرسی ویسٹ اور 2 رسووا سے ملی ہیں۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ سیلاب کا اثر صرف رسووا تک محدود نہیں رہا بلکہ بھوٹے کوشی اور ترشولی دریاؤں کے ساتھ ساتھ کئی زیریں اضلاع تک بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی ہے۔

826 لاپتہ افراد میں 579 سیاح
نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر  رسک ریڈکشن  اینڈ مینجمنٹ  اتھارٹی  کے تازہ اعداد کے مطابق لاپتہ افراد میں 579 سیاح شامل ہیں، جن میں 466 غیر ملکی اور 113 نیپالی ہیں۔ لاپتہ افراد میں نیپالی فوج کے 44 اہلکار، نیپال پولیس کے 28 اہلکار اور آرمڈ پولیس فورس کے 13 اہلکار بھی شامل ہیں۔

غیر ملکی سیاحوں میں 177 بھارتی، 63 امریکی، 53 یوکرینی، 34 آسٹریلوی اور 33 برطانوی شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کینیڈا، جرمنی، سنگاپور، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک کے شہری بھی لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔

نیپال اور تبت کو ملا کر تقریباً 1500 افراد لاپتہ
واضح رہے کہ 826 افراد کا عدد صرف نیپال کا ہے۔ چین کے تبت خودمختار علاقے میں بھی سیکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔ تازہ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق نیپال اور تبت کو ملا کر تقریباً 1,500 افراد لاپتہ ہیں۔ چین کے گی‌رونگ کاؤنٹی میں 558 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ وہاں تین ہلاکتوں کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

ٹمورے میں 123 افراد کا ریسکیو
ریسکیو آپریشن میں اہم پیش رفت جمعرات کی صبح ہوئی، جب نیپالی فوج نے رسووا کے ٹمورے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے 116 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ ان میں 95 نیپالی اور 21 بھارتی شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سرنگ میں پھنسے مزید 7 نیپالی شہریوں کو بھی نکال لیا گیا۔ وزیراعظم بالیندر شاہ کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے سے ریسکیو پروازیں جاری ہیں اور 15 سے زائد پروازیں مکمل ہوچکی ہیں، جبکہ مزید ہیلی کاپٹر اسٹینڈ بائی پر رکھے گئے ہیں۔

حکومت متاثرہ علاقوں میں جنریٹر، عارضی موبائل ٹاور، طبی سامان، خیمے اور ملبہ ہٹانے کے لیے مشینری پہنچا رہی ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں کے ساتھ مواصلاتی نظام بھی بحال کیا جاسکے۔

پورے گاؤں اور اہم انفراسٹرکچر بہہ گئے
بھوٹے کوشی میں آنے والا سیلاب انتہائی تیزی سے نیچے کی جانب بڑھا اور راستے میں آنے والی بستیوں، مکانات، گاڑیوں، پلوں، سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر کو بہا لے گیا۔ رسووا گڑھی کے ٹمورے بازار میں سیکڑوں افراد آباد تھے اور وہاں موجود 300 سے زائد گاڑیوں اور ٹرکوں کے بھی بہہ جانے کی اطلاعات ہیں۔

ابتدائی تخمینے کے مطابق 19 موٹر ایبل پل اور تقریباً 40 کلومیٹر شاہراہ تباہ ہوئی ہے۔ رسووا گڑھی کسٹمز پوائنٹ اور دیگر سرکاری تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے مطابق سیلاب سے متعدد ہائیڈرو پاور منصوبے اور ٹرانسمیشن لائنیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ترشولی کا 220 کے وی سب اسٹیشن بھی تباہ ہوگیا ہے۔

اچانک سیلاب آیا، لوگوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا
اس سانحے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ متاثرہ علاقے میں اس وقت شدید بارش نہیں ہورہی تھی۔ نیپالی میڈیا کے مطابق چین کی جانب سے آنے والے ایک بڑے برفانی تودے یا گلیشیئر کے انہدام نے بالائی علاقے میں پانی اور ملبے کا راستہ روکا، جس کے بعد اچانک ایک انتہائی طاقتور ریلہ بھوٹے کوشی میں داخل ہوا اور چند لمحوں میں ٹمورے سمیت دریا کے کنارے کی بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے تجزیے میں بھی اس واقعے کو برف اور چٹانوں کے بڑے پیمانے پر گلیشیئر سے منسلک انہدام سے جوڑا گیا ہے، نہ کہ کسی عام زلزلے سے۔

مزید سیلاب کا خطرہ برقرار
امدادی کارروائیوں کے باوجود خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔ دریا کے بالائی حصوں میں ملبے اور برفانی تودوں سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث مزید پانی جمع ہونے اور اچانک دوبارہ سیلاب آنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ نیپال کے سیاسی رہنماؤں نے حکومت سے چین کے ساتھ فوری معلومات کے تبادلے اور ممکنہ مزید سیلاب کے خطرے سے عوام کو بروقت آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ
متاثرہ علاقوں میں کئی مقامات تک رسائی اب بھی مشکل ہے اور مواصلاتی رابطے بھی متاثر ہیں۔ اسی وجہ سے حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی موجودہ تعداد حتمی نہیں سمجھی جاسکتی۔ ریسکیو ٹیموں کے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے اور دریا کے زیریں علاقوں سے مزید لاشیں ملنے کے ساتھ ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کے اعداد میں مزید تبدیلی کا امکان موجود ہے۔

تازہ ترین مجموعی صورتِ حال: نیپال میں 165 ہلاکتیں اور 826 افراد لاپتہ ہیں، جبکہ نیپال اور چین کے تبت خطے کو ملا کر تقریباً 1,500 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ رسووا میں فوج، پولیس اور دیگر امدادی اداروں کا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔


Share: