بنگلورو ، 2/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ شہر کے پارکوں کی زمین کا 5 فیصد حصہ مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تجویز کیوں پیش کی گئی، ماضی میں اس سلسلے میں کیا فیصلے کیے گئے اور کن مقامات کو کس مقصد کے لیے دیا گیا، ان تمام امور کی مکمل جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ فائلیں طلب کرکے اس معاملے پر اسمبلی میں دوبارہ بحث کا موقع بھی فراہم کیا جاسکتا ہے۔
اپنی رہائش گاہ کے قریب صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لال باغ میں میٹرو کے لیے زمین فراہم کرنے سمیت بنگلورو کے مختلف علاقوں میں سرکاری اور پارکوں کی زمین کے استعمال سے متعلق سابقہ فیصلوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
پارکوں کی زمین کے تحفظ سے متعلق سوال پر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ عوام کو کسی قسم کی تشویش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ پارکوں کی زمین کو کس طرح محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کے دور میں لال باغ سمیت شہر کے دیگر پارکوں کی زمین کے بارے میں جو بھی اقدامات کیے گئے ہیں، ان کی مکمل معلومات حاصل کرکے معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر اسمبلی میں دوبارہ بحث کے لیے بھی موقع فراہم کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اپوزیشن کی تجاویز کے لیے کھلے ذہن کے ساتھ تیار ہیں اور عوام کی آراء کو بھی اہمیت دی جائے گی۔ ان کا مقصد کسی قسم کی الجھن پیدا کرنا نہیں بلکہ وسیع تر عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہے۔
ریاست میں خشک سالی کی صورتحال کے بارے میں ڈی کے شیوکمار نے بتایا کہ نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور کی جانب سے اب تک 102 تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔ مزید کچھ تعلقہ جات کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے اور ہر تعلقہ سے مسلسل رپورٹ حاصل کرکے مقررہ ضابطوں کے مطابق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی ٹیم جب کرناٹک کا دورہ کرے گی تو ریاست کو خشک سالی کی صورتحال کے بارے میں جامع طور پر اپنا موقف پیش کرنا ہوگا۔ اس لیے خشک سالی کے اعلان کے عمل میں کسی بھی قسم کی تکنیکی خامی نہ رہ جائے، اس بات کا خاص خیال رکھا جارہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ دھارواڑ، گدگ سمیت بعض اضلاع میں خشک سالی کے اعلان سے متعلق مکمل معلومات دستیاب نہ ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس سلسلے میں افسران سے رپورٹس طلب کی گئی ہیں اور وہ خود بھی متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ باگَل کوٹ کا بھی دورہ کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جس ضلع یا تعلقہ میں واقعی خشک سالی کی صورتحال موجود ہے، اس کا زمینی سطح پر جائزہ لیا جائے گا۔ کسی علاقے کو محض سیاسی یا ذاتی بنیاد پر خشک سالی سے متاثرہ قرار نہیں دیا جائے گا۔ محصولات، زراعت اور دیگر متعلقہ محکمے مشترکہ طور پر صورتحال کا جائزہ لے کر مرکزی حکومت کے مقررہ ضابطوں کے مطابق خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا اعلان کریں گے۔
کانگریس کے قائد راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے اسے سیاسی محرکات پر مبنی کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ راہل گاندھی نے آخر کیا غلط کیا ہے۔ نوجوانوں اور ملک کے لیے جدوجہد کرنا ان کا حق ہے اور یہ حق انہیں آئین نے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن مسائل کے لیے راہل گاندھی جدوجہد کررہے ہیں، ان معاملات میں وہ اور ان کی جماعت ان کے ساتھ ہیں۔
بی جے پی کی جانب سے مجوزہ پدیاترا کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن کا پدیاترا کرنا اچھی بات ہے اور بی جے پی کی سرگرمی ان کی جماعت کے لیے بھی ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس بھی اس کا مناسب سیاسی جواب دینے کے لیے اپنی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے تیار ہے۔