ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک کے کلبرگی میں مسلم نوجوانوں کی جانب سے شیو مندر کی سجاوٹ پر ہندو تنظیموں کا احتجاج

کرناٹک کے کلبرگی میں مسلم نوجوانوں کی جانب سے شیو مندر کی سجاوٹ پر ہندو تنظیموں کا احتجاج

Tue, 17 Feb 2026 02:09:36    S O News

کلبرگی 16 فروری (ایس او نیوز): حلال کٹ، جٹکا کٹ اور حجاب جیسے تنازعات کے بعد اب ریاست کرناٹک کے کلبرگی میں ایک اور مذہبی معاملہ گرما گیا ہے۔ شہر کے تاریخی رام تیرتھ شیو مندر میں مہاشیوراتری کے موقع پر مسلم نوجوانوں کی جانب سے کی گئی پھولوں کی سجاوٹ پر بعض ہندو تنظیموں نے سخت اعتراض جتاتے ہوئے مندر کا ’’شدھی کرن‘‘ کیا گیا ہے

میڈیا رپورٹس کے مطابق مہاشیوراتری کے موقع پر شہر کے مختلف شیو مندروں میں مذہبی جوش و خروش کے ساتھ تقاریب منعقد کی گئیں۔ اسی سلسلے میں رام تیرتھ شیو مندر کے احاطے اور گربھ گرہ میں موجود شیو لنگ کو خوبصورت پھولوں سے سجایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ سجاوٹ شہر کے وہ مسلم تاجر اور نوجوان انجام دیتے رہے ہیں جو برسوں سے پھولوں کا کاروبار کرتے آ رہے ہیں۔

تاہم جب مسلم نوجوانوں کی جانب سے شیو لنگ کی سجاوٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو بعض ہندو تنظیموں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے رام تیرتھ مندر ٹرسٹ کے خلاف ناراضگی ظاہر کی۔ اس کے بعد ہندو جاگرُتی سینا کے کارکنان مندر پہنچے اور گوموتر کے ذریعے شیو لنگ کی شدھی کرن کی، جس کے بعد دوبارہ پوجا کی رسم ادا کی گئی۔

ہندو تنظیموں کا کہنا ہے کہ تاریخی اور قدیم اہمیت کے حامل رام تیرتھ مندر میں سجاوٹ کی ذمہ داری مسلم افراد کو دینا عقیدت مندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ ٹرسٹ کی اس کارروائی سے لاکھوں بھکتوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

دوسری جانب یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مسلم پھول فروش گزشتہ کئی برسوں سے ہر سال مہاشیوراتری کے موقع پر اسی مندر میں سجاوٹ کا کام انجام دیتے آئے ہیں۔ بعض ہندو تنظیمی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس روایت کا علم اسی سال ہوا ہے، جس کے بعد انہوں نے احتجاج کیا۔

قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں کلبرگی میں مذہبی نوعیت کے چند دیگر معاملات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں آلند کے ایک درگاہ میں شیو لنگ پوجا سے متعلق تنازعہ اور قلعہ احاطہ میں واقع سویم شنبھو مندر میں پوجا کو لے کر ہنگامہ شامل ہے۔ ایسے میں رام تیرتھ مندر کا یہ واقعہ شہر میں ایک اور مذہبی کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


Share: