ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بی جے پی ایم ایل اے ہریش پونجا کو کرناٹک ہائی کورٹ کی سخت وارننگ: آئندہ نفرت انگیز تقاریر پر پابندی

بی جے پی ایم ایل اے ہریش پونجا کو کرناٹک ہائی کورٹ کی سخت وارننگ: آئندہ نفرت انگیز تقاریر پر پابندی

Sat, 12 Jul 2025 11:44:27    S O News

بنگلورو، 12 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی): کرناٹک ہائی کورٹ نے بی جے پی کے ایم ایل اے ہریش پونجا کو نفرت انگیز تقریر کے مقدمے میں عبوری راحت تو برقرار رکھی ہے، تاہم انہیں سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے آئندہ کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ بیان سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر وہ دوبارہ ایسے کسی عمل کے مرتکب پائے گئے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں حاصل عبوری تحفظ فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے گا۔

یہ کارروائی دکشن کنڑا ضلع کے حساس بیلتنگڈی حلقہ میں ہریش پونجا کی ایک تقریر کے بعد شروع ہوئی، جس میں انہوں نے مبینہ طور پر مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے اشتعال انگیز الفاظ استعمال کیے تھے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے تیکارو گوپال کرشنا مندر کے برہما کلشوتسو پروگرام کے دوران اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’’کنجری مسلمانوں کو مندر کے پروگراموں سے دور رکھنا چاہیے‘‘ اور ’’مسلمانوں کے ساتھ خیرسگالی سے زیادہ ہندوؤں کے درمیان اتحاد اہم ہے‘‘۔

ان بیانات کے بعد اپّیننگڈی پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات 153-A، 353 اور 505(2) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ابتدائی طور پر ہریش پونجا کو عدالت کی جانب سے عبوری تحفظ دیا گیا تھا، لیکن شکایت کنندہ ابراہیم کی جانب سے سینئر وکیل ایس. بالن نے اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے اس کی منسوخی کی اپیل کی۔

معاملے کی سماعت جسٹس کرشن کمار کی عدالت میں ہوئی، جس دوران ہریش پونجا کے وکیل اور سرکاری وکیل نے مزید وقت طلب کیا، تاہم وکیل بالن نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایل اے ہریش پونجا نے عدالتی تحفظ کا غلط استعمال کرتے ہوئے مسلسل نفرت پر مبنی بیانات دیے ہیں، جو کہ سماجی ہم آہنگی اور امن عامہ کے لیے خطرہ ہیں۔

بالن نے مزید دلیل دی کہ ایسے اشتعال انگیز بیانات ماضی میں منگلورو جیسے علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد اور قتل جیسے سنگین واقعات کا سبب بنے ہیں، اور اس طرح کے افراد عدالتی تحفظ کو نفرت پھیلانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔

عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد ہریش پونجا کو 7 اگست 2025 تک عبوری راحت میں توسیع تو دے دی، لیکن ساتھ ہی سخت شرائط بھی عائد کر دیں۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ وہ آئندہ کسی بھی تقریب، پلیٹ فارم یا عوامی موقع پر کسی بھی قسم کی نفرت انگیز تقریر نہ کریں اور نہ ہی ماضی میں کیے گئے اشتعال انگیز افعال یا بیانات کو دہرائیں۔

عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایک عوامی نمائندے، بالخصوص رکن اسمبلی کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات قطعی ناقابلِ قبول ہیں اور اگر آئندہ اس سلسلے میں کوئی خلاف ورزی پائی گئی تو عدالت ان کا عبوری تحفظ فوراً ختم کر دے گی اور مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


Share: