بنگلورو، 28 جون (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک ہائی کورٹ نے بی جے پی کے سابق مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے خلاف دابسپیٹ مارپیٹ معاملے میں زبردستی کسی بھی قسم کی کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہیگڈے کو پولیس تفتیش میں مکمل تعاون کرنا ہوگا۔
یہ احکامات ہائی کورٹ کے جسٹس ایس آر کرشن کمار پر مشتمل واحد رکنی بینچ نے اُس عرضداشت کی سماعت کے دوران جاری کیے، جس میں اننت کمار ہیگڈے نے ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔ ایف آئی آر پونے-بنگلورو قومی شاہراہ پر نجگل (دابسپیٹ کے قریب) پیش آئے مبینہ حملے کے واقعے سے متعلق دابسپیٹ پولیس تھانے میں درج کی گئی تھی۔
شکایت کنندہ سیف خان، جو ہالن ہلی کا رہائشی ہے، نے الزام لگایا ہے کہ وہ شادی کی ایک تقریب سے واپس لوٹ رہے تھے اور ان کے ساتھ سات افراد انووا گاڑی میں سوار تھے۔ نجگل کے قریب ایک تیز رفتار گاڑی نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں گاڑی روکنے پر مجبور کیا۔ گاڑی رکتے ہی ایک شخص نے ان پر گھونسہ مارا جبکہ دوسرا شخص انہیں زبردستی گاڑی سے باہر گھسیٹ کر مارنے لگا، جس کے نتیجے میں ان کے ساتھی سلمان خان کے تین دانت ٹوٹ گئے۔
شکایت میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اننت کمار ہیگڈے اس حملہ آور گاڑی میں موجود تھے اور انہوں نے فون پر کال کی، جس کے بعد دیگر افراد موقع پر پہنچے اور حملہ کیا۔ مزید الزام ہے کہ ہیگڈے نے شکایت کنندہ کی والدہ پر بھی حملہ کیا، جب کہ ان کے سیکیورٹی گارڈ نے پستول نکال کر دھمکایا۔
عدالت نے کہا کہ چونکہ ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں، اس لیے ملزم کو تفتیشی عمل کا سامنا کرنا ہوگا۔ تاہم عدالت نے پولیس کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ زبردستی گرفتاری یا کسی بھی غیر ضروری قانونی کارروائی سے گریز کریں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور قانون کا غلط استعمال نہ ہو۔
اس واقعے پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی خاصی بحث جاری ہے۔ ایک سابق مرکزی وزیر کے خلاف اس نوعیت کے الزامات اور ہائی کورٹ کی مداخلت نے اس معاملے کو خاصی اہمیت دے دی ہے، اور اس کے سیاسی اثرات بھی متوقع ہیں۔