ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ہاسن میں گنیش وسرجن جلوس پر ٹرک چڑھ گیا؛ 8 لوگوں کی موت، 25 سے زائد زخمی

ہاسن میں گنیش وسرجن جلوس پر ٹرک چڑھ گیا؛ 8 لوگوں کی موت، 25 سے زائد زخمی

Sat, 13 Sep 2025 00:18:40    S O News
ہاسن میں گنیش وسرجن جلوس پر ٹرک چڑھ گیا؛ 8 لوگوں کی موت، 25 سے زائد زخمی

ہاسن 12/ستمبر(ایس او نیوز): کرناٹک کے ضلع ہاسن کے تعلقہ موسلے ہوسہلی گاؤں میں گنیش وسرجن جلوس کے دوران جمعہ کی شب کو پیش آئے ایک دلخراش حادثے میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 25 سے زائد شدید زخمی ہوگئے۔ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار ٹرک بے قابو ہو کر گنیش وسرجن جلوس کے لئے موجود ہجوم پر چڑھ گیا۔

پولیس کے مطابق ٹرک ہاسن سے ہولےنرسپور کی جانب جا رہا تھا کہ اچانک ایک موٹر سائیکل سوار سڑک پر آگیا۔ ڈرائیور نے بائیک سوار کو بچانے کی کوشش کی مگر گاڑی پر قابو کھو بیٹھا اور ٹرک جلوس میں شریک عقیدت مندوں پر چڑھ گیا۔ خوشی اور جشن کا ماحول چند لمحوں میں ماتم میں بدل گیا اور پورا ضلع صدمے میں ڈوب گیا۔

موقع پر ہی چار افراد کی موت واقع ہوئی، جبکہ دیگرچار افراد اسپتال میں دم توڑ گئے۔ شدید زخمیوں کو فوری طور پر ہاسن کے ایچ آئی ایم ایس HIMS اسپتال اور باقی زخمیوں کو دوسرے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کو دیکھتے ہوئے مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

مقامی ایم ایل اے اور سابق وزیر ایچ۔ ڈی۔ ریوناّ نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے انتظامات خود دیکھے۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات لگائے۔ ان کے مطابق جلوس کے دوران مناسب بیریکیڈنگ یا سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ “جائے وقوع پر پولیس کی موجودگی ہی نہیں تھی، یہ حادثہ براہِ راست پولیس کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔” 

ریونا نے مزید الزام لگایا کہ ٹرک ڈرائیور شراب کے نشے میں تھا اور اس کی لاپرواہی کے باعث معصوم جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے ڈرائیور اور گاڑی کے مالک کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ متاثرہ خاندانوں کو فی کس کم از کم 10 سے 15 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے اور واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔

ممبرآف پارلیمنٹ شریاس پٹیل بھی جائے وقوع پر پہنچے اور لواحقین کو دلاسہ دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کی مدد کی یقین دہانی کرائی۔ مقامی لوگوں نے شدید ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ جلوس کے دوران ٹریفک کو روکنے کے لئے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے یہ سانحہ رونما ہوا۔

وفاقی وزیر اور سابق وزیراعلیٰ ایچ۔ ڈی۔ کمارسوامی نے سوشل میڈیا پر اپنے تعزیتی پیغام میں واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔ انہوں نے مہلوک کے اہلِ خانہ کے لئے صبر و ہمت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام زخمیوں کو مفت اور معیاری علاج فراہم کیا جائے۔

پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔


Share: