بنگلورو، 28/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی کے ہری پرساد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور مرکزی حکومت پر شدید الزامات عائد کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران انتخابی کمیشن کے دو ارکان کی جانب سے کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات درج کیے گئے، جن کا چیف الیکشن کمشنر نے مناسب جواب نہیں دیا۔
کے پی سی سی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہری پرساد نے کہا کہ ووٹروں کے حقوق اور انتخابی عمل کے تحفظ کی ذمہ داری رکھنے والے خودمختار اداروں کو اپنے فرائض شفاف طریقے سے انجام دینا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابی کمیشن کے موجودہ طریقۂ کار سے جمہوری عمل سے متعلق خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابی کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران انتخابی فہرستوں، نئے ووٹروں کے اندراج، ناموں کے اخراج اور ایس آئی آر سے متعلق بعض فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق بعض اعتراضات میں کارروائی کو ’’غیر مجاز‘‘ اور ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیے جانے کی بات بھی سامنے آئی۔
ہری پرساد نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ اگر ان اعتراضات میں کوئی حقیقت نہیں ہے تو وہ متعلقہ ریکارڈ اور حقائق عوام کے سامنے پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ محض بیانات یا جوابی الزامات کے ذریعے اٹھائے گئے سوالات ختم نہیں ہوں گے۔
ہری پرساد نے بی جے پی لیڈر راجیو چندر شیکھر کی جانب سے راہل گاندھی کے خلاف دیے گئے بیانات پر بھی تنقید کی اور ان سے اپنے سیاسی و عوامی کردار کا بھی جائزہ لینے کو کہا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چندر شیکھر کے سیاسی ماضی اور مختلف عہدوں کے دوران ان کے فیصلوں سے متعلق بھی سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ راجیو چندر شیکھر کے سابقہ عہدوں اور کاروباری مفادات سے متعلق معاملات پر مزید تفصیلات مستقبل میں سامنے آئیں گی۔ یہ تمام الزامات ہری پرساد کی جانب سے پریس کانفرنس میں عائد کیے گئے۔
ہری پرساد نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انتخابی کمیشن کی حمایت میں بی جے پی کے بعض ترجمان سرگرم ہیں اور اسے انہوں نے انتخابی ادارے کے بارے میں سیاسی بحث میں مداخلت قرار دیا۔
ہری پرساد نے ایس آئی آر کے عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ووٹر فہرستوں میں ناموں کے اندراج اور اخراج کے عمل میں مکمل شفافیت ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر انتخابی کمیشن کے اندر ہی بعض فیصلوں پر اختلافات درج ہوئے ہیں تو ان اعتراضات اور ان پر کیے گئے فیصلوں کی تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔
ہری پرساد نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی بہار میں اختیار کیے گئے انتخابی طریقۂ کار کو کرناٹک میں استعمال کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی امید رکھتی ہے۔ انہوں نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک سیاسی توقع ہے۔