منگلورو/اُڈپی، 28 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع کے مختلف علاقوں میں اتوار کے روز تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارش نے تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں دو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور املاک کو بھاری نقصان پہنچا۔
سولیا تعلقہ کے نالکور گاؤں کے چترپڈی علاقے میں 62 سالہ رکمنی اس وقت ہلاک ہو گئیں جب ان کے گھر کے قریب کام کرتے وقت ایک درخت کی شاخ ان پر آ گری۔ وہ صرف ایک دن قبل ہی اپنے گھر لوٹی تھیں۔ ان کے پسماندگان میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔ اُڈپی ضلع کے ہیجاماڈی میں ایک اور واقعے میں 87 سالہ جینتی ایم کنچن، جو پالمارو پڈو کی رہائشی تھیں، اپنے صحن میں پھسل کر گرنے سے جاں بحق ہو گئیں۔
سبراہمَنیا کے کمارادھارا گھاٹ میں مسلسل تین دن سے پانی جمع ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں موسلا دھار بارش کے باعث نیتراوتی ندی اُبل پڑی ہے، جس کے نتیجے میں سرپاڈی اور منی نالکور گاؤں کے نشیبی علاقے اور سپاری کے باغات زیر آب آ گئے ہیں۔ پُتور تعلقہ کے پٹماجالو روڈ پر درخت گرنے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
کالوگنڈی کے نیلّیکومیری علاقے میں ایف ڈی سی کالونی میں ایک بجلی کا کھمبا دنیش کے مکان پر گرنے سے مکان کی چھت اور دیواروں کو نقصان پہنچا۔ گناڈکا کے بیجڈاکٹے کے قریب مانی-میسورو ہائی وے پر ایک بڑا درخت گرنے سے عارضی طور پر ٹریفک روک دی گئی، جسے بعد میں صاف کر دیا گیا۔ سمپاجے میں ایک سپاری کا درخت شیلوتی کے گھر کی چھت پر جا گرا، جبکہ نالکور کے آمےمنے علاقے میں سدھیر کے گھر پر درخت گرنے سے کشلپا زخمی ہوا، تاہم دیگر افراد محفوظ رہے۔
دکشن کنڑا میں اب تک کم از کم سات دن اسکولوں کی تعطیل ہو چکی ہے، جبکہ اُڈپی کے بئندور سمیت مختلف علاقوں میں آٹھ دن کی چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔ کئی اسکولوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سنیچر کے دن مکمل کلاسز کے ذریعے نصاب کی تلافی کریں۔
دیہی علاقوں میں گرنے والے بجلی کے کھمبوں اور خراب لائنوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، اور بعض علاقوں میں گزشتہ دو دن سے بجلی بند ہے۔ محکمہ موسمیات ہند نے 28 اور 29 جولائی کے لیے ساحلی کرناٹک میں اورینج الرٹ جاری کرتے ہوئے شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے اور عوام کو محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔