ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / گارنٹی اسکیموں کو صرف بی پی ایل خاندانوں تک محدود کرنے پر شیوکمار کا سوال

گارنٹی اسکیموں کو صرف بی پی ایل خاندانوں تک محدود کرنے پر شیوکمار کا سوال

Thu, 24 Sep 2026 12:23:45    S O News

بنگلورو ، 24/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اسمبلی میں خشک سالی کی صورتِ حال پر بحث کے دوران بی جے پی ارکان کی جانب سے گارنٹی اسکیموں کے دائرۂ کار کو محدود کرنے کے مطالبے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر گارنٹی اسکیمیں صرف غریبوں تک محدود کی جانی چاہئیں تو یہ بھی واضح کیا جائے کہ غریب اور صاحبِ حیثیت افراد کے درمیان تقسیم کس بنیاد پر کی جائے گی۔

اسمبلی میں خشک سالی پر بحث کے دوران بی جے پی کے رکن سِدھو ساودی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو دی جانے والی گارنٹی اسکیمیں روک کر اس رقم کو خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کی امداد کے لیے استعمال کیا جائے۔ بی جے پی کے ایک اور رکن سریش گوڑا نے بھی گارنٹی اسکیموں کو خشک سالی کے دوران صرف غریب افراد تک محدود رکھنے کا مطالبہ کیا۔

اس پر وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ حکومت کی مختلف گارنٹی اسکیموں سے کسان خاندان بھی مستفید ہورہے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسان خاندانوں کی خواتین شکتی اسکیم کے تحت مفت بس سفر کی سہولت سے استفادہ کررہی ہیں، کسان خاندانوں کی خواتین کو گروہ لکشمی اسکیم کی رقم مل رہی ہے، کسانوں کے گھروں کو مفت بجلی فراہم کی جارہی ہے اور کسان خاندان بھی 10 کلو چاول کی فراہمی سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے بی جے پی ارکان سے سوال کیا کہ ان میں سے کن کسان خاندانوں کو گارنٹی اسکیموں سے باہر رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اس سلسلے میں کوئی واضح تجویز پیش کرے تو حکومت اس پر غور کرسکتی ہے۔

جب سریش گوڑا نے غریبوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بی پی ایل راشن کارڈ رکھنے والے افراد ہی غریب ہیں تو وزیر اعلیٰ نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا ان کے مطابق گارنٹی اسکیمیں صرف بی پی ایل کارڈ رکھنے والوں تک محدود کردی جائیں اور دیگر افراد کے لیے یہ اسکیمیں ختم کردی جائیں؟ انہوں نے بی جے پی رکن سے کہا کہ وہ اس موقف کو ایوان میں واضح طور پر پیش کریں۔

سریش گوڑا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ غریبوں کے لیے گارنٹی اسکیمیں جاری رکھنے کے حق میں ہیں اور خشک سالی کے دوران حکومت کے لیے مالی بوجھ کم کرنا ضروری ہے۔

اس دوران بی جے پی کے ریاستی صدر بی وائی وجیندر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کے پاس مالی وسائل کی کمی ہے اور اسی وجہ سے بی پی ایل کارڈ منسوخ کیے جارہے ہیں تو اس معاملے پر بھی بات ہونی چاہیے۔

اس پر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ سریش گوڑا کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جائے کیونکہ وہ اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔ وجیندر نے جواب دیا کہ ان کے رکن وزیر اعلیٰ کے موقف کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے وجیندر کے اس تبصرے پر کہا کہ اگر بی جے پی کے ارکان ان کے موقف کو سمجھ رہے ہیں تو اسی وجہ سے ان کے درمیان بات چیت بھی ہورہی ہے۔

یہ بحث ریاست میں جاری خشک سالی اور اس کے دوران حکومتی اخراجات و فلاحی اسکیموں کے دائرۂ کار سے متعلق اسمبلی میں ہونے والی بحث کا حصہ تھی۔ ریاستی حکومت خشک سالی سے نمٹنے کے لیے مرکز سے امداد کا مطالبہ بھی کررہی ہے۔


Share: