ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ’نریندر مودی بے نقاب ہو گئے، ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا‘، کانگریس کا سخت وار

’نریندر مودی بے نقاب ہو گئے، ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا‘، کانگریس کا سخت وار

Sat, 15 Feb 2025 11:07:54    S.O. News Service

نئی دہلی ، 15/فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت امریکی دورے پر ہیں، جہاں ہند-امریکہ کے درمیان کئی اہم معاہدوں پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ اسی دوران، پی ایم مودی سے کیے گئے بعض سوالات اور ان کے جوابات نے کانگریس کو سخت تنقید کا موقع فراہم کر دیا۔ خاص طور پر جب گوتم اڈانی معاملے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں پی ایم مودی نے اسے ’ذاتی مسئلہ‘ قرار دیا، تو کانگریس نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس حوالے سے کئی پوسٹس سامنے آئیں۔ اس دوران، کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی، جس میں وہ کہتی ہیں، ’’پی ایم مودی کے سامنے بیٹھ کر ٹرمپ نے باہمی ٹیرف (ریسیپروکل ٹیرف) کے معاملے میں دباؤ ڈالا۔‘‘

اس پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’مودی اپنوں کے ساتھ ناروا سلوک پر کچھ نہیں بول پائے۔ اڈانی کے سوال پر سکتہ میں آ گئے، بدعنوانی کو ذاتی معاملہ بتا ڈالا۔ نریندر مودی کی قلعی کھل گئی ہے، انھوں نے ملک کی بے عزتی کرا دی۔‘‘ یہ ویڈیو کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کیا ہے۔

اس ویڈیو میں سپریا شرینیت کہتی نظر آ رہی ہیں کہ ’’نریندر مودی امریکہ گئے ہوئے ہیں۔ وہ اس ملک کے وزیر اعظم ہیں، اور ہمارے ملک کے وزیر اعظم کو اپنے بغل میں کھڑا کر کے امریکی صدر نہ صرف باہمی ٹیرف لگانے کے لیے دھمکا رہے تھے، بلکہ ہمارے ملک کے لیے فراڈ، زیادتی اور بربادی جیسے الفاظ کا استعمال کر رہے تھے۔ یہی نہیں ہندوستان برکس کا حصہ ہے، اور ان کا (ٹرمپ کا) کہنا ہے کہ برکس کے ممالک تھر تھر کانپ رہے ہیں، امریکہ اس کے بعد کیا کرے۔‘‘

پی ایم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سپریا کہتی ہیں کہ ’’نریندر مودی امریکہ کی زمین پر ہیں اور اس طرح کا سلوک ناقابل برداشت ہے۔ جب 143 کروڑ آبادی والے ملک کے وزیر اعظم سے ناجائز دراندازی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انھوں نے ایک بار بھی امریکی صدر کے سامنے ہاتھوں میں ہتھکھڑیوں اور پیروں میں بیڑیوں کے بارے میں نہیں پوچھا۔ خواتین تک کو نہیں بخشا گیا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارے ملک کے باشندوں کے ساتھ جو ظلم کیے گئے، اس ملک کی جو بے عزتی ہوئی، اس پر ایک لفظ نہیں بولا۔ جب اڈانی پر سوال کیا گیا تو جیسے مودی جی کے چہرے سے رنگ ہی اڑ گیا۔ مودی جی کا کہنا تھا کہ یہ تو ذاتی معاملہ ہے۔ اتنی بڑی بدعنوانی کا معاملہ، جس میں امریکہ میں وارنٹ ایشو ہے، جس پر تمام ممالک میں جانچ چل رہی ہے، وہ مودی جی کے لیے ذاتی معاملہ ہے۔‘‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سپریا کہتی ہیں کہ ’’اڈانی سے متعلق سوال کے بعد جو ان کی باڈی لینگویج بدلی، چہرے کا رنگ بدلا، جس طرح سے وہ ہاتھ نچا نچا کر بات کرنے لگے، باڈی لینگویج ماہرین بتائیں کہ اس کے بارے میں کیا کہا جائے! اصلیت یہ ہے کہ امریکی صدر نے ہمارے ملک کی بے عزتی کی ہے، نریندر مودی جی کی بے عزتی کی ہے اور مودی جی کچھ نہیں کہہ پائے۔‘‘ آخر میں وہ یہ بھی کہنے سے پرہیز نہیں کرتیں کہ ’’بھکتوں کے وشو گرو کی قلعی کھل چکی ہے۔ دو الفاظ تو ملک کے لیے بول دیے ہوتے۔‘‘


Share: