پیرس ، 18/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی)فرانس کے کئی شہروں میں ہفتے کے روز احتجاجی مظاہروں کے دوران پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے ہفتے کے روز کہا کہ فرانس میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 5.5 لاکھ افراد نے شرکت کی۔ بڑھتی مہنگائی کے خلاف اور طلباء کے مطالبات کی حمایت میں لوگ سڑکوں پر اترے۔ فرانسیسی میڈیا بی ایف ایم ٹی وی کے حوالے سے شنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نونیز نے مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد کی مذمت کی۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 400 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ ہفتے کے روز داخلی سلامتی فورسز کے 60 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
فرانسیسی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں میں کسان، ماحولیاتی کارکن، ٹریڈ یونینیں اور طلباء شامل تھے۔ مظاہرین نے ایندھن کی قیمتوں، بڑھتی مہنگائی، تعلیم اور عوامی خدمات سے متعلق مسائل کو لے کر اپنے مطالبات پیش کیے۔ نونیز نے کہا کہ مظاہروں کے دوران کئی سرکاری عمارتوں، پولیس تھانوں اور کاروباری اداروں پر حملے کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ مارسی، لیلی، کیلے اور انجے کے سٹی ہالوں میں داخل ہونے یا داخل ہونے کی کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ بورڈو سمیت کئی مقامات پر انتظامی دفاتر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ شرپسند عناصر نے مظاہروں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی شہروں میں دکانوں میں لوٹ مار کی۔
شنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق ان مظاہروں کی وجہ سے عوامی نقل و حمل بھی متاثر ہوئی۔ پیرس کی عوامی ٹرانسپورٹ سروس آر اے ٹی پی نے اپنی ویب سائٹ پر اطلاع دی کہ شہر کی 10 سے زیادہ میٹرو لائنوں کی خدمات عارضی طور پر روک دی گئیں اور کئی اسٹیشن بند کر دیے گئے۔ دوسری جانب لوور میوزیم نے ہفتے کے روز آنے والے زائرین کی تعداد محدود کر دی، جبکہ اورانجری میوزیم میں صرف ان لوگوں کو داخلے کی اجازت دی گئی جنہوں نے پہلے سے بکنگ کرا رکھی تھی۔
’شنہوا‘ کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ توڑ پھوڑ کرنے، سرکاری دفاتر اور کاروباری اداروں پر حملہ کرنے، یہاں تک کہ ہمارے سٹی ہالوں میں بھی لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں سزا دی جائے گی۔ میکرون نے امن و امان برقرار رکھنے والے اہلکاروں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان لوگوں کے خلاف متحد رہیں گے، جو افراتفری پھیلاتے ہیں، جن کا مقصد صرف ہمارے اداروں کو کمزور کرنا ہے اور جو دوسروں کو اپنے مسائل پر پرامن طریقے سے آواز اٹھانے سے روکتے ہیں۔