بھٹکل 31 جولائی (ایس او نیوز) بدھ دوپہر تینگنگونڈی کے ساحل پر پیش آئے المناک کشتی حادثے میں لاپتہ ہونے والے چار ماہی گیروں میں سے ایک کی نعش آج جمعرات دوپہر جالی پٹن پنچایت حدود کے ہونے گیدے ساحل سے برآمد کرلی گئی ہے۔ متوفی کی شناخت جالی کوڈی کے رہائشی 40 سالہ راماکرشنا موگیر کے طور پر کی گئی ہے۔
بحرعرب میں لاپتہ ماہی گیروں کی تلاش بدھ کی شام سے جاری تھی۔ جمعرات کو دوپہر کے وقت مقامی ماہی گیروں نے سمندر میں ایک لاش کو تیرتے ہوئے دیکھا، جس کے بعد کوسٹل سیکیورٹی پولیس اور ماہی گیروں کی مدد سے نعش کو ساحل پر لایا گیا اورایمبولینس کے ذریعے بھٹکل سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس موقع پر بھٹکل مضافاتی پولیس تھانے کے سرکل انسپکٹرمنجوناتھ لینگا ریڈی اپنی ٹیم کے ہمراہ موقع پرموجود تھے۔
راماکرشنا موگیر کے حوالے سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان کا ایک بیٹا بھی دو سال قبل اسی طرح کے حادثے میں ماہی گیری کے دوران کشتی اُلٹنے سے جاں بحق ہو چکا تھا۔ اب راماکرشنا کی موت سے ان کی بیوہ اور ایک بیٹی مکمل طور پر بے سہارا ہو چکی ہیں۔
یاد رہے کہ یہ حادثہ بدھ کی دوپہر تقریباً تین بجے اس وقت پیش آیا تھا جب چھ ماہی گیر شرالی الوے کوڈی کے ساحل سے مچھلیوں کے شکار کے لیے سمندر میں اترے تھے۔ تقریباً آدھے گھنٹے میں ہی بلند اور خطرناک لہروں کی زد میں آکر کشتی الٹ گئی، جس کے نتیجے میں چار ماہی گیر سمندر میں غرق ہو گئے، جبکہ دو ماہی گیر کشتی پر چڑھ کر تیرتے ہوئے ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد میں ان دونوں کو ابتدائی علاج کے لیے بھٹکل سرکاری اسپتال اور پھر مزید علاج کے لیے کنداپور اسپتال منتقل کیا گیا۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریاستی وزیر برائے ماہی گیری منکال وئیدیا جمعرات کی صبح بھٹکل پہنچے، جہاں انہوں نے شرالی الوے کوڈی اور تینگنگونڈی ساحل کا دورہ کرکے جائے وقوع کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کوسٹل سیکیورٹی پولیس کی جانب سے جاری تلاشی مہم کا بھی جائزہ لیا اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرکے تعزیت کا اظہار کیا۔
اس سے قبل، بدھ کی شام بھٹکل کے سابق رکن اسمبلی سنیل نائک نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے ماہی گیروں سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جاں بحق ماہی گیروں کے اہل خانہ کو فوری طور پر 10 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ ماہی گیر اپنی جان خطرے میں ڈال کر سمندر میں جاتے ہیں، لیکن ان کی حفاظت کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں۔
فی الحال باقی تین لاپتہ ماہی گیروں کی تلاش جاری ہے، اور مقامی انتظامیہ، پولیس، کوسٹل سیکیورٹی فورس اور ماہی گیر مسلسل ریسکیو مشن میں مصروف ہیں۔