نئی دہلی، 25 جولائی (ایس او نیوز): دہلی کی ٹیکسی اینڈ ٹورسٹ ٹرانسپورٹرز اینڈ ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی ایتھانول ملا (E20) پٹرول پالیسی کے خلاف 4 اگست کو پارلیمنٹ کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ E20 پٹرول کے استعمال سے ملک بھر کے ٹیکسی ڈرائیوروں، ٹرانسپورٹ آپریٹروں اور نجی گاڑی مالکان کو ایندھن کی اوسط (Mileage) میں کمی، گاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہونے اور مرمت کے اخراجات میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کے روزگار اور معاشی حالات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے صدر سنجے سمرت نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2015 سے پہلے تیار کی گئی بڑی تعداد میں گاڑیاں E20 ایندھن کے لیے موزوں نہیں ہیں، جبکہ حکومت نے پورے ملک میں ایتھانول ملا پٹرول کی فراہمی لازمی بنا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب صارفین مکمل قیمت ادا کر رہے ہیں تو انہیں بغیر ملاوٹ والا پٹرول خریدنے کا اختیار بھی ملنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ پالیسی کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کاروبار پہلے ہی بڑھتے ہوئے اخراجات کے دباؤ میں ہے۔
احتجاج کرنے والی تنظیم نے واضح کیا کہ اس کا مطالبہ ایتھانول پالیسی کی آزاد سائنسی جانچ (Independent Scientific Review) ہے، جس میں گاڑی مالکان، صارفین، ٹرانسپورٹ تنظیموں، آٹو موبائل کمپنیوں اور تکنیکی ماہرین کو شامل کیا جائے تاکہ پالیسی کے حقیقی اثرات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ تنظیم نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات شروع کرنے اور ٹرانسپورٹ شعبے کے تحفظات دور کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
ایسوسی ایشن نے احتجاج کے دوران دیگر اہم مطالبات بھی پیش کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں آل انڈیا ٹورسٹ پرمٹ والی ٹیکسیوں اور بسوں کے لیے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی حد پر نظرثانی، پرانی گاڑیوں کی اسکریپنگ پالیسی کا ازسرنو جائزہ، BS-IV ڈیزل ٹورسٹ گاڑیوں پر عائد پابندیوں میں نرمی، پینک بٹن اور وہیکل لوکیشن ٹریکنگ ڈیوائس (VLTD) منصوبے کی جانچ، اور قومی شاہراہوں پر زیادہ ٹول ٹیکس میں کمی شامل ہیں۔ تنظیم نے ملک بھر کی ٹیکسی اور ٹرک یونینوں سے بھی احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ ہزاروں ڈرائیور اس مارچ میں شریک ہوں گے۔
دوسری جانب مرکزی حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ایتھانول ملا پٹرول خام تیل کی درآمدات میں کمی، فضائی آلودگی پر قابو پانے اور گنے کے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے اہم اقدام ہے۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں E20 پالیسی کے خلاف عوامی اعتراضات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ آٹو موبائل صنعت نے بھی پٹرول پمپوں پر ایندھن کے معیار کی مؤثر نگرانی کا باقاعدہ نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ گاڑی مالکان کے خدشات دور کیے جا سکیں۔
ایسوسی ایشن نے زور دے کر کہا ہے کہ اس کا احتجاج مکمل طور پر پرامن اور غیر سیاسی ہوگا اور اس کا مقصد صرف ٹرانسپورٹ شعبے کو درپیش عملی مسائل کو حکومت کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنا ہے۔