ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / نیپالی طالبہ کی خودکشی کے بعد بھوبنیشور میں کشیدگی، 500 سے زائد نیپالی طلبہ یونیورسٹی سے نکلنے پر مجبور

نیپالی طالبہ کی خودکشی کے بعد بھوبنیشور میں کشیدگی، 500 سے زائد نیپالی طلبہ یونیورسٹی سے نکلنے پر مجبور

Tue, 18 Feb 2025 19:14:12    S O News

 بھوبنیشور   ، 18/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )بھوبنیشور کے کالنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی (کے آئی آئی ٹی) کے کیمپس میں نیپالی طالبہ کی خودکشی کے واقعہ کے بعد کشیدگی بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر معاملہ اٹھایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، اس تناؤ کے دوران 500 سے زائد نیپالی طلبہ کو یونیورسٹی کیمپس چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ یہ واقعہ دونوں ممالک میں تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

کے آئی آئی ٹی میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہی ۲۰ سالہ طالبہ پراکرتی لمسال اتوار کی شام اپنے ہاسٹل کے کمرے میں مردہ پائی گئی تھی۔ وہ نیپال سے تعلق رکھتی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، لمسال کو بلیک میل کیا جا رہا تھا۔ پولیس نے ملزم اڈویک سری واستو (۲۱) کو اتوار کی شام بیجو پٹنائک بین الاقوامی ہوائی اڈے کے باہر حراست میں لیا گیا تھا اور اس کے خلاف بی این ایس کی دفعہ ۱۰۸ (خودکشی کی ترغیب دینے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اتوار کی شام دیر گئے، نیپالی طلبہ نے کے آئی آئی ٹی کیمپس کے قریب سڑک بلاک کر دی اور الزام لگایا کہ جب لمسال نے یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات دفتر (آئی آر او) پہنچ کر اپنے ساتھی طالب علم کے ذریعے ہراساں کئے جانے کی شکایت کی تو یونیورسٹی حکام نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

پیر کو بڑھتے مظاہروں کے درمیان، یونیورسٹی کے حکام نے ایک نوٹس جاری کرکے نیپال کے تمام بین الاقوامی طلبہ کو فوری طور پر کیمپس خالی کرنے کی ہدایت دی۔ ۵۰۰ سے زیادہ نیپالی طلبہ کو بسوں میں سوار ہونے کیلئے کہا گیا اور انہیں مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر اتار دیا گیا، جہاں سے انہیں گھر جانے کیلئے کہا گیا۔ ویڈیو فوٹیج سے پتہ چلتا ہے کہ نیپالی طلبہ کو تحقیقات میں حصہ لینے سے روکنے کیلئے زبردستی ریلوے اسٹیشنوں پر لے جایا گیا۔ طلبہ نے الزام لگایا کہ ان کے فون چیک کئے گئے اور مزاحمت کرنے والوں کو گارڈز اور باؤنسر نے مارا پیٹا۔

نیپالی وزیراعظم کے پی شرما اولی نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیا کہ نئی دہلی میں نیپال کے سفارت خانے کے ۲ افسران کو ادیشہ میں متاثرہ نیپالی طلبہ کی مشاورت کیلئے روانہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو اپنی ذاتی ترجیح کی بنیاد پر ہاسٹل میں رہنے یا گھر لوٹ آنے کا اختیار حاصل ہے۔ اولی کے بیان کے بعد ادیشہ حکومت نے اس معاملہ میں مداخلت کی اور کے آئی آئی ٹی انتظامیہ کو اپنا فیصلہ واپس لینے کیلئے اکسایا۔

ہندوستان میں نیپال کے سفارت خانہ نے بھی ایک بیان جاری کیا اور یقین دہائی کرائی کہ سفارت خانے کی جانب سے تعلیمی ادارے میں طلبہ کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے طلباء کے ہاسٹل میں رہنے اور مذکورہ تعلیمی ادارے میں نیپالی طلبہ کی کلاسیز کے انعقاد کیلئے ضروری انتظامات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

بعد ازیں، یونیورسٹی نے ایک بیان جاری کرکے نیپالی طلبہ پر زور دیا کہ وہ واپس آجائیں اور کلاسیز میں شریک ہوں۔ کے آئی آئی ٹی نے یونیورسٹی کیمپس میں نیپالی طلبہ کی واپسی کی سہولت کیلئے ۷×۲۴ کنٹرول روم بھی شروع کیا۔ 


Share: