مینگلور 31/جولائی (ایس او نیوز): ضلع دکشن کنڑا میں واقع ہندووں کے مقدس اور مذہبی مقام دھرمستھلا میں بڑے پیمانے پر مبینہ اجتماعی تدفین کی تحقیقات کے تیسرے دن، خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کو چھٹے مقام پر انسانی ڈھانچے کی باقیات (اسکلیٹن) برآمد ہوئی ہیں۔ اس دریافت نے معاملے کو نیا رخ دے دیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ پولیس کو ایک اہم ثبوت ہاتھ لگا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ باقیات نیتراوتی ندی کے کنارے واقع جنگلاتی علاقے میں تقریباً تین فٹ گہرائی سے نکالی گئی ہیں۔ باقیات کو فارینسک جانچ کے لیے فارینسک سائنس لیبارٹری( ایف ایس ایل لیب) بھیج دیا گیا ہے، جہاں ڈی این اے تجزیے سمیت مختلف سائنسی جانچ عمل میں لائی جائے گی۔
بتایا گیا ہے کہ شکایت کنندہ کی نشاندہی پر چھٹے مقام پر زمین کھودنے کے دوران انسانی کھوپڑی اور ہڈیاں برآمد ہوئیں، جنہیں سائنسدانوں کی ٹیم نے پیک کر کے جانچ کے لیے بھیج دیا ہے۔ مقام سے مٹی کے نمونے بھی حاصل کیے گئے ہیں۔ ایس آئی ٹی (خصوصی تحقیقاتی ٹیم) کی نگرانی میں ہٹاشی مشین کے ذریعے کھدائی کا کام بدستور جاری ہے۔
ابتدائی جانچ میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ برآمد شدہ ہڈیاں ایک مرد کی ہیں، تاہم حتمی تصدیق ایف ایس ایل کی تفصیلی رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہڈیوں کے ذریعے عمر، موت کی وجہ اور شناخت کا پتہ لگانے کی کوشش کی جائے گی، اور ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیا جائے گا۔ ایس آئی ٹی کے مطابق، اس بات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ کسی لاوارث لاش کی باضابطہ تدفین تھی یا پھر غیرقانونی طور پر دفن کی گئی کوئی مشکوک لاش۔ مقامی انتظامیہ کے پاس موجود سابقہ ریکارڈز سے اس کا موازنہ کیا جائے گا۔ چھٹے مقام پر کھدائی انتہائی احتیاط اور سست رفتاری سے جاری ہے، کیونکہ شبہ ہے کہ مزید شواہد بھی وہاں موجود ہو سکتے ہیں۔
جس مقام سے باقیات برآمد ہوئی ہیں، یہ ان 13 مقامات میں شامل ہے جن کی نشاندہی ایک سابق صفائی ملازم نے کی تھی۔ ملازم نے الزام لگایا ہے کہ 1995 سے 2014 کے درمیان اُسے متعدد بار اپنے اعلیٰ افسران کے حکم پر کئی لاشوں کو دفن کرنے پر مجبور کیا گیا، جن میں کئی خواتین اور کم عمر لڑکیاں شامل تھیں، جن پر مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے آثار بھی موجود تھے۔ یہ انکشافات جون کے آخر میں ایک پریس کانفرنس میں وکلاء کے ذریعے سامنے آئے، جب متاثرہ شخص نے اپنی شناخت کو خفیہ رکھتے ہوئے اپنی جان کے تحفظ کے لیے میڈیا کے سامنے نہ آنے کا فیصلہ کیا۔
سابق صفائی ملازم کی جانب سے 3 جولائی کو دھرمستھلا پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی گئی تھی، جس کے بعد اگلے دن ایف آئی آر درج کی گئی۔ 11 جولائی کو بیلتنگڈی عدالت میں اس کا بیان دفعہ 183 بی این ایس ایس کے تحت ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس نے ایس آئی ٹی ٹیم کو تمام مبینہ جگہوں کی نشان دہی کی، جہاں ملازم کے بقول تدفین عمل میں آئی تھی۔
موجودہ تحقیقات 29 جولائی سے شروع کی گئی ہیں، جن میں مسلسل بارش کی وجہ سے کام کی رفتار سست رہی ہے۔ چھٹے مقام سے انسانی باقیات کی برآمدگی کے بعد یہ غور کیا جا رہا ہے کہ آیا ساتویں مقام پر فوراً کھدائی شروع کی جائے یا کچھ وقت انتظار کیا جائے۔ ایس آئی ٹی کو آئندہ دنوں میں دیگر مقامات پر بھی کھدائی جاری رکھنے کی توقع ہے، جن میں بیشتر مقامات ندی کنارے واقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق چھٹے مقام پر کھدائی کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ پہلے، دوسرے اور تیسرے مقامات پر کھدائی کی گہرائی تین سے چار فٹ رہی، جبکہ پہلے مقام پر تقریباً چھ فٹ تک کھدائی کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق، اب تک کوئی واضح شناخت ممکن نہیں ہو سکی ہے، تاہم ریاست بھر کی تمام پولیس تھانوں سے 1995 سے 2005 اور 2015 کے درمیان درج ہونے والے لاپتہ افراد، حل نہ ہونے والے کیسز اور جنسی زیادتی کے مقدمات کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں تاکہ برآمد شدہ باقیات کا ممکنہ ربط تلاش کیا جا سکے۔
یہ تحقیقات نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ریاست بھر میں عوامی اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔اس دریافت نے شکایت کنندہ کے سنسنی خیز انکشافات کو مزید تقویت دی ہے اور کیس کی صداقت پر یقین بڑھایا ہے۔