نئی دہلی ، 18/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )پیر (17 فروری) کو دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو کی ہدایات پر دہلی کانگریس کے قانونی اور انسانی حقوق کے محکمہ کا ایک وفد قومی انسانی حقوق کمیشن سے ملا۔ کانگریس وفد نے 15 فروری کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ریلوے کی بدانتظامی کے باعث ہونے والی بھگدڑ میں ہلاک ہونے والوں کے متعلق شکایات کے حوالے سے ایک میمورنڈم پیش کیا۔ اس میمورنڈم میں حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
وفد کی سربراہی دہلی کانگریس کے قانونی اور محکمہ انسانی حقوق کے چیئرمین ایڈوکیٹ سنیل کمار نے کیا۔ وفد کے دیگر ممبران میں راجیش گرگ چیئرمین بوتھ منیجمنٹ، ایڈوکیٹ ساجد چودھری، ایڈوکیٹ شیخ عمران عالم، ایڈوکیٹ نشکرش گپتا، ایڈوکیٹ میگھا سہرا، ایڈوکیٹ بابر، ایڈوکیٹ پرتاپ سنگھ، ایڈوکیٹ دیپک پائلٹ اور لا طالب علم کارتکیہ گرگ شامل تھے۔
دہلی کانگریس صدر نے اس موقع سے کہا کہ ’’نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر محکمہ ریلوے کی بدانتظامی کی وجہ سے لوگوں کی موت ہوئی جس کے لیے براہ راست محکمہ ریلوے ذمہ دار ہے۔ مستقبل میں اس طرح کی بھگڈر نہ مچے اس کے لیے ریلوے گائڈ لائنز جاری کریں۔ تاکہ دہلی اور دیگر ریاستوں سے کمبھ جانے والوں کی جان بچائی جا سکے۔‘‘ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ’’کمبھ میں بدانتظامی کی وجہ سے 29 جنوری کو بھی پریاگ راج میں بھگڈر مچنے کی وجہ سے 35-40 لوگوں کی موت ہوئی تھی، لیکن مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے اس پر کوئی حساسیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔‘‘
دیویندر یادو نے آگے کہا کہ 144 سال بعد مقدس کمبھ میں کروڑوں ہندوستانیوں کی عقیدت ہے کہ وہ گنگا سماگم میں ڈبکی لگائے، جس کے لیے مرکزی حکومت سمیت ریاستی حکومت بھی لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ لیکن لوگوں کے لیے نہ تو ریاستوں کے ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں اور آمد و رفت کا کوئی نظام ہے اور نہ ہی کمبھ کی جگہ کو عام لوگوں کے لیے منظم کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا جب مرکزی حکومت اور اترپردیش کی حکومت کمبھ میں کروڑوں لوگوں کے ڈبکی لگانے کا کریڈٹ لے رہی ہے تب کمبھ میں یا کمبھ کے لیے جانے والے لوگوں کی موت کے لیے بھی بی جے پی کی مرکزی حکومت کو ذمہ داری لینی چاہیے۔ دیویندر یادو نے کہا کہ صرف نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر فی گھنٹہ 1500 ٹکٹ فروخت کی جا رہی ہے، ٹرینوں میں دری، ریلوے کی آمد و رفت میں سدھار کیے جائیں۔ تاکہ کمبھ جانے والے عقیدت مندوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔