نئی دہلی ، 18/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی ) دہلی میں نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کی تیاریاں تیز ہو چکی ہیں۔ بی جے پی حکومت کی حلف برداری 20 فروری کو رام لیلا میدان میں ہوگی، تاہم اس سے پہلے پٹپڑ گنج سے بی جے پی کے ایم ایل اے رویندر سنگھ نیگی نے عام آدمی پارٹی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کے دفتر کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ نیگی نے کہا کہ سسودیا کے دفتر سے متعدد قیمتی اشیاء بشمول کرسیاں، ٹی وی، ساؤنڈ سسٹم، صوفے، میز اور اے سی غائب ہو گئے ہیں۔
بی جے پی ایم ایل اے نے کہا کہ سابق ڈپٹی سی ایم منیش سسودیا نے اس دفتر میں 12 سال تک کام کیا، جسے پی ڈبلیو ڈی نے بنایا تھا۔ یہاں پر مختلف محکموں کی جانب سے فرنیچر اور دیگر چیزیں فراہم کی گئیں لیکن جب پی ڈبلیو ڈی نے میرے حوالے کیا تو تقریباً 250 کرسیاں، ٹی وی، ساؤنڈ سسٹم، صوفہ، میزیں اور اے سی غائب تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دفتر سے دروازے اور ایڈجسٹ پنکھے بھی غائب ہیں۔ یہ سب سرکاری جائیداد تھی۔ سب کچھ یہاں چھوڑنا ان کا فرض تھا۔ یہ ایک سرکاری دفتر تھا، لیکن اسے انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ انتخابات کے دوران یہاں جلسے ہوتے تھے۔ یہ لوگ آئین کو نہیں مانتے۔
فی الحال اس معاملے کو لے کر عام آدمی پارٹی یا سابق ڈپٹی سی ایم منیش سسودیا کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ پی ڈبلیو ڈی نے یہ بنگلہ بی جے پی ایم ایل اے نیگی کو دے دیا ہے۔ جہاں وہ صفائی کرواتے بھی نظر آئے۔ اب یہ بنگلہ ان کی سرکاری رہائش گاہ ہو گا۔
اس اسمبلی الیکشن میں منیش سسودیا نے پٹپڑ گنج سیٹ چھوڑ کر جنگ پورہ سے الیکشن لڑا تھا۔ پارٹی نے پٹپڑ گنج میں سسودیا کے بجائے اودھ اوجھا کو ٹکٹ دیا تھا۔ تاہم اودھ اوجھا کو انتخابات میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ بی جے پی کے نیگی تقریباً 29 ہزار ووٹوں سے سیٹ جیتنے میں کامیاب رہے۔ ساتھ ہی اپنی سیٹ بدلنے والے سسودیا کو بھی جیتنے کا موقع نہیں ملا۔