منگلورو، 4 / اگست (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کی غلفت اور بے پروائی کی وجہ بی سی روڈ اور سورتکل بندرگاہ کو جوڑنے والے نیشنل ہائی وے 66 کی خستہ حالت اور خاص طور پر ننتھور اور سورتکل کے درمیان والے حصے میں پڑے ہوئے بڑے بڑے گڈھے اورف اکھڑی ہوئی سڑک کی پرتیں موٹر گاڑیوں کے لئے ایک وبال بن کر رہ گئے ہیں ۔
بتایا جاتا ہے کہ مانسون کی آمد سے قبل متعلقہ محکمہ اور افسران کی جانب سے اس سڑک کی مرمت کا منصوبہ پورا نہ کرنے کی وجہ سے یہ صورت حال سامنے آئی ہے ۔ سڑک پر بڑی اور بھاری گاڑیوں کی رفت والے حصے میں پڑے ہوئے بڑے بڑے گڈھوں میں برسات کا پانی مستقل طور پر جمع رہتا ہے اور ہر وقت یہاں پر بھاری موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رہنے کی وجہ سے سڑک کے ٹوٹنے پھوٹنے کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے ۔
نیشنل ہائی وے کے اس پورے ٹکڑے پر برساتی پانی کی نکاسی کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے ۔ بیکمپاڈی - کولور ہائی وے کی اوپری پرت پوری طرح اکھڑ چکی ہے ۔ اس سڑک پر کاریں اور اس سے ذرا بڑی موٹر گاڑیاں مشکل سے گزر جاتی ہیں مگر دو پہیہ گاڑیوں کے لئے یہاں سے اپنی جان ہتھیلی پر لے کر گزرنا پڑتا ہے ۔ گزشتہ مہینے 9 جون کو اشرف نامی ایک بائک سوار پانمبور علاقے میں پڑے ہوئے ایسے بڑے گڈھوں سے گزرنے دوران سڑک پر گرنے کے بعد ٹینکر کی زد میں آ کر کچلے جانے کا حادثہ اس کی ایک مثال ہے۔
اس کے علاوہ گہرے گڈھوں کی وجہ سے سڑک کے اس حصے پر موٹر گاڑیوں کی رفتار بہت ہی سست ہوجاتی ہے جس سے یہاں پر ٹریفک جام لگنا روزانہ کا معمول بن گیا ہے ، جو سورتکل سے منگلورو کی جانب روزانہ سفر کرنے والوں کے لئے ایک بڑی مصیبت ہے ۔ اور جب تیز برسات ہوتی ہے تو اس دوران میں یہاں سے موٹر گاڑیاں گزارنا کسی اناڑی کے ذریعے موت کے کنویں میں کرتب دکھانے کے برابر ہوتا ہے ۔
حالانکہ بی سی روڈ - ننتھور کو بندرگاہ سے جوڑنے والے نیشنل ہائی وے 75 اور ننتھور - سورتکل کے نیشنل ہائی وے 66 کے حصے کو نیو منگلورو پورٹ روڈ کمپنی لمیٹڈ کی ایس وی پی کے ذریعے تیار کیا گیا تھا مگر اس کمپنی نے سڑک کی دیکھ بھال اور مرمت سے ہاتھ اٹھا لیا ہے ۔ دکشن کنڑا کے رکن پارلیمان کیپٹن برجیش چوتا نے مرکزی وزارت نقل و حمل سے این ایچ آئی کے توسط سے اس سڑک کی مکمل مرمت کے لئے فنڈ حاصل کیا تھا اور اپریل میں مرمت کا کام شروع کیا گیا تھا ۔ مگر مانسون کا موسم شروع ہونے سے قبل این ایچ اے آئی مرمت اور تعمیر کا کام مکمل کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے یہ سڑک اب موٹر سواروں کے لئے ایک عذاب بن گئی ہے ۔