نئی دہلی 14/ڈسمبر (ایس او نیوز) نئی دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں اتوار کو کانگریس پارٹی کی جانب سے ایک بڑی اور طاقتور مہا ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (SIR) کے نام پر ووٹر لسٹوں میں مبینہ چھیڑ چھاڑ اور ’ووٹ چوری‘ کے خلاف شدید احتجاج درج کرایا گیا۔ ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعرے کے تحت منعقد اس ریلی کی قیادت کانگریس کے سینئر رہنماؤں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے کی، جبکہ ملک بھر سے ہزاروں کارکنان اور حامی اس میں شریک ہوئے۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کی قومی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج الیکشن کے ہر مرحلے پر شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی عوام کے حقِ رائے دہی کو سلب کرنے کی سازش میں شامل ہیں۔ پرینکا گاندھی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ’’ بی جے پی ان تینوں کو بچانے کی کتنی بھی کوشش چاہے کر لے لیکن یہ ملک ان تینوں الیکشن کمشنروں کے نام کبھی نہیں بھولے گا۔ اور ایک دن انہیں عوام کے سامنے جواب دینا ہی ہوگا۔‘‘

انہوں نے بی جے پی کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی عوام کی حمایت حاصل ہے تو پارٹی ایک بار بیلٹ پیپر کے ذریعے صاف اور شفاف الیکشن لڑ کر دکھائے، کیونکہ ای وی ایم اور الیکشن کمیشن کے سہارے کے بغیر بی جے پی کبھی جیت نہیں سکتی۔ پرینکا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ بہار میں ضابطۂ اخلاق کے دوران خواتین کو دس ہزار روپے دیے گئے، مگر الیکشن کمیشن نے آنکھیں بند رکھیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہ ’ووٹ چوری‘ نہیں تو پھر کیا ہے؟
کانگریس جنرل سیکریٹری نے مزید کہا کہ آج ملک کی تمام آئینی اور جمہوری اداروں کو نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے سامنے جھکایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مہنگائی، بے روزگاری، خواتین کی سلامتی، نوجوانوں میں بڑھتی مایوسی، پیپر لیک گھوٹالوں، روپے کی گرتی قدر، برآمدات میں کمی اور قومی اثاثوں کو بڑے صنعت کاروں کے حوالے کیے جانے جیسے مسائل پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ آج ملک میں سچ اور جھوٹ کے درمیان ایک فیصلہ کن لڑائی جاری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس ’ستیہ‘ (سچ) کے ساتھ کھڑی ہے اور نریندر مودی–آر ایس ایس حکومت کو اقتدار سے بے دخل کر کے رہے گی۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن اس لڑائی میں بی جے پی کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے اور اسی لیے حکومت نے قانون میں تبدیلی کر کے کمیشن کو ہر طرح کی کارروائی سے بچا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس اس قانون کو ماضی سے نافذ اثر کے ساتھ بدلے گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں لاکھوں ووٹ اچانک غائب ہو رہے ہیں، کہیں دوسرے ریاستوں کے لوگ آ کر ووٹ ڈال رہے ہیں، جبکہ کہیں عوام کے دستخط والے کاغذات نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کو آج اقتدار کا غرور ہے، مگر سچ ہمیشہ جیتتا ہے اور اقتدار عارضی ہوتا ہے۔‘‘
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بی جے پی پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ’ووٹ چوری‘ میں ملوث ہیں وہ دراصل ملک کے غدار ہیں اور جمہوریت و آئین کو بچانے کے لیے انہیں اقتدار سے ہٹانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا نظریہ ملک کو کمزور کر رہا ہے اور جمہوری اقدار کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ کانگریس کا نظریہ ہی ملک کو بچا سکتا ہے اور عوام کو متحد ہو کر اس جدوجہد میں شامل ہونا ہوگا۔
ریلی میں کانگریس کے کئی سینئر رہنما بالخصوص سچن پائلٹ، بھوپیندر سنگھ ہڈا، اجے ماکن، الکا لامبا، دیویندر یادو، ادے بھانو چِب وغیرہ شامل تھے۔ مقررین نے مشترکہ طور پر کہا کہ جب تک ’ووٹ چوری‘ بند نہیں ہوتی، ملک میں حقیقی جمہوریت بحال نہیں ہو سکتی، اور اس مقصد کے لیے کانگریس کی جدوجہد سڑک سے پارلیمنٹ تک جاری رہے گی۔
ریلی کے اختتام پر پارٹی قیادت نے اعلان کیا کہ الیکشن کمیشن کی مبینہ جانبداری اور ووٹر لسٹوں میں مبینہ چھیڑ چھاڑ کے خلاف ملک گیر تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا اور عوامی حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔